اے تلور تیرا کیا جاتا ہے ؟

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کم ہی ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے ہی چیف جسٹس کی سربراہی میں بننے والے کسی سابق بینچ کے کسی متفقہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دے۔ پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایک ہی معاملے پر وہ فیصلہ درست تھا کہ یہ فیصلہ درست ہے۔
جسٹس منیر کے نظریہِ ضرورت کو جگانے کے فیصلے اور افتخار محمد چوہدری کے نظریہِ ضرورت کو دفن کردینے کے فیصلے تک انصاف کی قانونی کتابیں ایسے کئی نظائر سے عبارت ہیں جن میں ایک ہی عدالت نے اپنے ہی فیصلے لکھے، پلٹے اور الٹے۔
اس سلسلے کی تازہ کڑی آنرایبل چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا تلورکے شکار کی بحالی سے متعلق وہ فیصلہ ہے جس میں سابق برادر چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے تین رکنی بنچ کا ( 19 اگست 2015 ) فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت کا کام قانون سازی نہیں بلکہ نافذ قوانین کی تشریح ہے۔
مجھ جیسے قانون سے نابلد لکھاریوں کی مشکل یہ ہے کہ نہ میں سابق چیف جسٹس کے فیصلے کی تکنیکی باریکیاں اپنی پلکوں سے بین سکتا ہوں اور نہ ہی موجودہ چیف جسٹس کے فیصلے کا تکنیکی تجزیہ کر سکتا ہوں۔ کوئی تجزیاتی گڑبڑ ہوجائے تو توہینِ عدالت الگ۔
پھر بھی آپ پوچھیں کہ تلور کے شکار پر مکمل پابندی کے گذشتہ فیصلے یا اس پر سے پابندی اٹھانے نہ اٹھانے کا اختیار صوبوں کو لوٹانے کے تازہ فیصلے میں سے مجھے کون سا اچھا لگا؟ تو میں بلا جھجھک کہوں گا کہ تازہ فیصلہ۔یہ فیصلہ کسی آئیڈیل ازم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس میں ٹھوس زمینی و قانونی حقائق کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
تلور تو آتا جاتا رہے گا مگر ریاستی مفاد اپنی جگہ رہےگا۔ ویسے بھی تلور کی بقا کا سوال صوبائی خود مختاری اور قومی خارجہ پالیسی کے مقاصد و اہداف سے کیا زیادہ اہم ہے؟ ریاستی مفاد پر تو انسان قربان ہوجاتا ہے تلور کیا بیچتا ہے؟
بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ کیا دھرا ہی تلور کا ہے۔ نہ وہ باقاعدگی سے پاکستان آئے، نہ اس کے پیچھے عرب شہزادے آئیں، نہ دفترِ خارجہ کو پرمٹ جاری کرنا پڑیں، نہ کوئی مقامی شہری تلور کے شکار کے نام پر قتلِ عام پر پابندی کی درخواست دائر کرے، نہ کسی اعلیٰ عدالتی بنچ کو اس کے شکار پر مکمل پابندی لگانا پڑے اور پھر دوسری ہم پلہ عدالت کو یہ فیصلہ پلٹنا پڑے۔
میں آخر تلور کی حمایت کیوں کروں؟ ایک تو غیر قانونی طور پر پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے اوپر سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ ہم اس کی مہمان نوازی کریں، سر آنکھوں پر بٹھائیں؟ کیا وہ مجھ پر پیسے نچھاور کرتا ہے؟ تیل ادھار میں دیتا ہے؟ ٹھیکے بانٹتا ہے؟ خیر سگالی دان کرتا ہے؟ کیا اس کے ہاتھ میں بندوق ہے جو سیلوٹ کروں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
تلور کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ فی زمانہ اتحادِ بین المسلمین کا سفیر ہے۔اس کا وجود اسلامی کانفرنس کی تنظیم، تصورِ امّہ اور اسلامی اخوت سے بھی بھاری ہے۔اسے تو پھولے نہیں سمانا چاہیے کہ امت کے چنیدہ لوگوں کو ہی اس کے شکار، پکڑ اور سمگلنگ کی اجازت ہے۔اگر ازنِ عام ہو جائے تو رہ جانے والے 92 ہزار بھی نہ رہیں۔
خلیجی شہزادے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ایک آدھ مہینہ اس بہانے ذرا دل پشوری کر لیتے ہیں تو تیری جان کیوں جاتی ہے؟
بس یہ مجرہِ تلور بھی چند برس اور ہے ۔ سازندوں کو ویہلیں سمیٹ لینے دو۔ پھر ہم کہاں، تم کہاں، وہ کہاں۔ غلام عباس کی آنندی کہیں اور ٹھکانہ کر لے گی۔ کسی اور پے تکیہ کر لے گی۔ تلور نہ سہی تلوار سہی۔۔۔







