’مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو تفتیش کے لیے حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

نجی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ ’مسعود اظہر کو تحویل یا حفاظتی تحویل میں تفتیش کے لیے لیا گیا ہے اور ثبوت ملنے کی صورت میں ہی انھیں گرفتار کیا جائے گا۔‘

ابھی تک بھارت کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ فلاں شخص اس پٹھان کوٹ حملے میں ملوث ہے۔ تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

جیشِ محمد کے سربراہ کی گرفتاری سے متعلق کیے جانے والے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مسعود اظہر براہ راست اس میں (پٹھان کوٹ حملے میں) ملوث نہیں تو مقدمہ تو ان کے خلاف ہوگا جو اس میں ملوث ہیں۔‘

جیش محمد نے یہ تصدیق تو نہیں کی کہ مسعود اظہار گرفتار ہیں یا حفاظتی تحویل میں تاہم کالعدم تنظیم کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجیش محمد نے یہ تصدیق تو نہیں کی کہ مسعود اظہار گرفتار ہیں یا حفاظتی تحویل میں تاہم کالعدم تنظیم کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا

خیال رہے کہ بدھ کو وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی گئی اور کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے دفاتر کو سیل کیا گیا اور بہت سے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تاہم صوبائی وزیرِقانون نے ڈان نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ نہ تو کوئی گرفتاری ہوئی ہے اور ہی دفتر سیل ہوئے ہیں حکومت نے صرف سیالکوٹ اور بہاولپور میں مولانا مسعود اظہار کے بھائی عبدالرؤف کے مدارس کو شک کی بنیاد پر بند کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو تفتیش کے لیے حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ مولانا مسعود اظہر کو محکمہ انسداد دہشت گردی نے اپنی تحویل میں لیا ہے۔

صوبائی وزیرِ قانون نے ان خبروں کی تردید بھی کی کہ پنجاب میں رینجرز کو کسی بڑے آپریشن کے لیے ذمہ داری دی جا رہی ہے۔