لاہور میں طالبہ سے ریپ کے ملزمان کا ریمانڈ

عدالت نے تمام ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنعدالت نے تمام ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور میں 15 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے ملزموں کو مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جہاں عدالت نے تمام ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر کے ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

<link type="page"><caption> ریپ کے مقدمات میں صرف چھ فیصد کو سزائیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150511_pak_rape_omen_ads.shtml" platform="highweb"/></link>

طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا یہ واقعہ سنیچر کے روز منظرعام پر آیا تھا، جب ایک 15 سالہ لڑکی کو شراب پلا کر مال روڈ کے ایک ہوٹل میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بعد میں لڑکی کو زخمی حالت میں سروسز ہپستال پہنچایا گیا جہاں اس نے اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کا انکشاف کیا۔ اجتماعی زیادتی کے کیس میں آٹھ ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا، جس میں مرکزی ملزم عدنان ثنا اللہ کا تعلق حکمران مسلم لیگ ن کے یوتھ ونگ سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس نے واقعے کے فوراً بعد چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ مال روڈ پر واقع ہوٹل کو سیل کر کے اس کے مالک کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

تاہم مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے کئی گھنٹے تک چھاپے مارے جاتے رہے، اور بالآخر گذشتہ روز اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

پولیس نے آٹھوں ملزمان کو آج کینٹ کچہری میں پیش کیا اور عدالت سے درخواست کی کہ انھیں دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ تمام پہلوں سے واقعے کی تحقیقات کی جا سکیں۔

چار ملزمان کے وکلا بھی عدالت میں پیش ہوئے جنھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے موکلوں کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ انھوں نے تو لڑکی کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

تاہم عدالت نے آٹھوں ملزمان کے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو حکم دیا وہ تمام ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں اور رپورٹ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کریں۔