’بریت کی درخواست رد، دہشت گردی کا مقدمہ‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی عدالت میں مقدمے کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے تفصیلی رپورٹ پیش کر کے اپنا موقف دہرایا کہ ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردی کے الزامات میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت نہیں مل سکے، لہٰذا انھیں بری کیا جائے۔
رینجرز نے ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردوں اور ملزمان کو پناہ دینے اور رعایتی نرخوں پر علاج معالجے کے الزامات عائد کیے تھے۔ رینجرز کے قانونی افسر کا موقف تھا کہ مدعی سے مشاورت نہیں کی گئی اور گواہوں کا بیان بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔
جسٹس نعمت للہ پھلپوٹو نے سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے بریت کی درخواست مسترد کر دی اور ڈاکٹر عاصم کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
ڈاکٹر عاصم کے خلاف اب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
یاد رہے کہ گذشتہ سماعت کے موقعے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ڈاکٹر عاصم حسین کو قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیا تھا، جہاں ان پر زمین پر قبضوں اور منی لانڈرنگ سمیت دیگر الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، نیب ان کا ریمانڈ بھی لے چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ڈاکٹر عاصم حسین کے خاندان نے بریت مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ سندھ حکومت بھی ڈاکٹر عاصم کی حمایت میں کھل کر سامنے آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلے سے انھیں مایوسی ہوئی ہے۔
مشیر اطلاعات نے کہا کہ ’ڈاکٹر صاحب نے جو تین سو سے زائد صفحات کے ثبوت دیے ہیں ان کا جائزہ لینا بھی ضروری تھا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جانے چاہیے تاکہ احتساب پر انتقام کا نام نہ آئے تبھی اس کو قبول کیا جائے گا اور اس تبصرہ نہیں ہو گا۔‘
مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ رینجرز نے جو میڈیکل بل پیش کیے ہیں ان کا اور جو بیانات ہیں، ان دونوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے اس تفتیش کی رپورٹ دیکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اگر 90 دن رکھنے کے باوجود بھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں تو پھر فیصلہ کس بنیاد پر دیا گیا ہے؟‘
دریں اثنا وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت میں رینجرز کے مشروط اختیارات پر اختلافات حل نہیں ہو سکے۔







