پاکستان کی اسلامی ممالک کے اتحاد میں شمولیت کی تصدیق

 اس بارے میں سعودی حکام سے مزید معلومات کا انتظار ہے جس کے بعد ہی طے کیا جا سکے گا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں حصہ لے سکتا ہے
،تصویر کا کیپشن اس بارے میں سعودی حکام سے مزید معلومات کا انتظار ہے جس کے بعد ہی طے کیا جا سکے گا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں حصہ لے سکتا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف 34 اسلامی ملکوں کے اتحاد کا حصہ ہے، یہ اسلامی اتحاد سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا جبکہ اس سے پہلے پاکستان نے اس اتحاد کا خیر مقدم کیا تھا۔

پاکستان کو ابھی تک اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ شدت پسندی کے خلاف اس اتحاد میں پاکستان کا کردار کیا ہو گا۔

حکام اس بارے میں بھی لاعلم ہیں کہ اگر خطے کے دوسرے ممالک میں دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد کارروائی کرتا ہے تو کیا پاکستان کی افواج اس میں حصہ لیں گی یا پھر دہشت گردی سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سعودی حکام سے مزید معلومات کا انتظار ہے جس کے بعد ہی طے کیا جا سکے گا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں حصہ لے سکتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سے اسلامی ملکوں کے اس اتحاد میں ایران، عراق اور شام کو شامل نہ کیے جانے کے بارے میں پاکستان کا موقف جاننے کے لیے متعدد سوالات کیے گئے جس پر قاضی خلیل اللہ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں وہی ممالک ردعمل دے سکتے ہیں جنھیں اس اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے 16 دسمبر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مستقل حمایت کرتا رہا ہے۔

افغاستان میں امن قائم کرنے کے لیے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کرنے سے متعلق دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان، چین، امریکہ اور افغانستان اس بارے میں کام کر رہے ہیں اور جلد ہی اس بارے میں لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کسی بھی رکن نے دہشت گردی کے خلاف اس اسلامی اتحاد کے بارے میں نقطۂ اعتراض پر کوئی بات نہیں کی جبکہ اس سے پہلے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے سعودی عرب نے جب پاکستان کو بھی دعوت دی تھی تو حکومت نے فوج کو سعودی عرب بھیجنے کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کردیا تھا۔

پاکستانی پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حملے کے صورت میں پاکستانی افواج سعودی عرب کی حفاطت کے لیے بھیجی جائیں گی۔