پاڑہ چنار دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ، بازار اور تجارتی مراکز بند

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے میں دو درجن ہلاکتوں کے خلاف تین روزہ سوگ کے پہلے دن پاڑہ چنار شہر کے تمام بازار اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے خلاف پاڑہ چنار میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پیر کی صبح سے شہر بھر میں تمام بازار اور تجارتی مراکز بطور احتجاج مکمل طور پر بند ہیں۔ ان کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی تدفین کر دی گئی ہے تاہم کچھ افراد کی نماز جنازہ آج ادا کی جا رہی ہے۔
دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی اور ان کی لاش مرکزی امام بارگاہ میں رکھی گئی ہے۔
پاڑہ چنار سے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین توری نے بی بی سی کو بتایا کہ محرم الحرام کے مہینے اور چہلم کے موقعے پر پاڑہ چنار کو کئی قسم کے خطرات کا سامنا تھا جس کی وجہ سے توری قبیلے اور سکیورٹی فورسز نے شہر کی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی تھی۔
انھوں نے کہا کہ یہ دونوں مواقع بخیریت گزرگئے جس پر سب لوگ بڑے خوش تھے لیکن یکم ربیع الاول کو اتنے بڑے واقعے کا رونما ہونا کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک سوال کے جواب میں ساجد حسین توری نے بتایا کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کوشش تھی کہ آرمی پبلک سکول کی پہلی برسی سے قبل خیبر پختونخوا اور فاٹا میں اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے باعث شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن وہ مکمل طورپر ختم نہیں ہوئے اور اس واقعے سے بظاہر لگتا ہے کہ وہ بدستور متحرک ہیں جن کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ اتوار کو کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔







