پاڑہ چنار دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ، بازار اور تجارتی مراکز بند

خیال رہے کہ اتوار کو کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار بازار میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ اتوار کو کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار بازار میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے میں دو درجن ہلاکتوں کے خلاف تین روزہ سوگ کے پہلے دن پاڑہ چنار شہر کے تمام بازار اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے خلاف پاڑہ چنار میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پیر کی صبح سے شہر بھر میں تمام بازار اور تجارتی مراکز بطور احتجاج مکمل طور پر بند ہیں۔ ان کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی تدفین کر دی گئی ہے تاہم کچھ افراد کی نماز جنازہ آج ادا کی جا رہی ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی اور ان کی لاش مرکزی امام بارگاہ میں رکھی گئی ہے۔

پاڑہ چنار سے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین توری نے بی بی سی کو بتایا کہ محرم الحرام کے مہینے اور چہلم کے موقعے پر پاڑہ چنار کو کئی قسم کے خطرات کا سامنا تھا جس کی وجہ سے توری قبیلے اور سکیورٹی فورسز نے شہر کی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ دونوں مواقع بخیریت گزرگئے جس پر سب لوگ بڑے خوش تھے لیکن یکم ربیع الاول کو اتنے بڑے واقعے کا رونما ہونا کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے خلاف پاڑہ چنار شہر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے خلاف پاڑہ چنار شہر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا

ایک سوال کے جواب میں ساجد حسین توری نے بتایا کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کوشش تھی کہ آرمی پبلک سکول کی پہلی برسی سے قبل خیبر پختونخوا اور فاٹا میں اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔

ان کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے باعث شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن وہ مکمل طورپر ختم نہیں ہوئے اور اس واقعے سے بظاہر لگتا ہے کہ وہ بدستور متحرک ہیں جن کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔