تعلقات کی بحالی میں سٹیل کی سرمایہ کاری

،تصویر کا ذریعہMEA INDIA
- مصنف, فراز ہاشمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
افغانستان اور بھارت کے درمیان سڑک کے راستے کھولنے کے مسئلے کو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے خصوصی طور پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں اٹھایا۔
بین الاقوامی تعلقات میں سب سے زیادہ اہمیت اور ترجیح معاشی معاملات کو ہی دی جاتی ہے۔
<link type="page"><caption> ’سب سے اہم افغانستان کی بھارتی بازاروں تک سڑک سے رسائی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151209_sushma_heart_of_asia_zs" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بھارت کی ایرانی بندرگاہ کی تعمیر میں دلچسپی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/05/150505_india_developing_iran_port_sr" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> افغانستان کو بھارتی ہتھیاروں سے زیادہ پاکستانی تعاون درکار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2013/05/130521_karzai_india_tour_expectations_zs" platform="highweb"/></link>
سشما سوراج کا اچانک ہارٹ آف ایشیا میں شرکت کرنا اور پاکستان جس نے اس سے قبل استنبول میں ہونے والی کانفرنس میں بھارت کی شرکت کی مخالفت کی تھی اس کا بھارت کی میزبانی کرنے پر رضامند ہو جانا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے زمینی راستے سے گزر کر افغانستان اور اس سے بھی آگے وسطی ایشیا کی ریاستوں تک پہنچنا بھارت کا ایک دیرینہ خواب رہا ہے۔ لیکن گذشتہ دس برس میں بھارت کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے معاشی مفادات نے اس خواہش کو اور بھی شدید کر دیا ہے۔
سشما سوراج کے اس بیان کو اگر بھارت کے گذشتہ دس برس میں افغانستان میں بڑھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ قطعاً حیران کن بات نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جغرافیائی مجبوریوں کے باوجود افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم سنہ 2001 میں آٹھ کروڑ ڈالر سے بڑھ کر سنہ 2010 میں 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
بھارت اور افغانستان کے تجارتی تعلقات میں سٹیل کا شعبہ ایسا ہے جس میں بھارت کے سرکاری اور نجی شعبے مشترکہ طور پر سب سے زیادہ چھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس سلسلے میں چند سال قبل سٹیل اتھارٹی آف انڈیا کی سربراہی میں قائم بھارتی کمپنیوں کے افغان آئرن اینڈ سٹیل نامی کنسورشیم نے جس میں جندل گروپ کے سب سے زیادہ شیئر ہیں، افغانستان کے صوبے بامیان میں خام لوہا نکالنے کی کامیاب بولی لگائی تھی۔
بھارتی کمپنیوں نے لوہے کی کانوں سے خام لوہا نکل کر 60 کروڑ ٹن سٹیل بنانے کی صلاحت رکھنے والی مل اور 800 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا کارخانہ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ماہرین کے اندازے کے مطابق چھ کروڑ ٹن لوہے کی قیمت عالمی منڈی میں تین اعشاریہ تین ارب ڈالر بنتی ہے۔ بامیان میں حاجیگک کی لوہے کی کانوں میں ایک اندازے کے مطابق دو ارب ٹن لوہے کے ذخائر موجود ہیں۔
یاد رہے کہ جندل گروپ بھارت میں سٹیل کے شعبے کے بڑے سرمایہ کار ہیں اور ان کا بھارت کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی بڑا اثر و رسوخ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس جندل گروپ کے نوین جندل کا ذکر بھارتی صحافی برکھا دت نے بھی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب میں کیا ہے۔ ان کےبقول مودی کی حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کے دورۂ بھارت کے دوران نوین جندل نے نواز شریف کے صاحبزادے کی دعوت بھی کی تھی۔
اس کے علاوہ یہ وہی نوین جندل ہیں جن کے توسعت سے کھٹمنڈو میں سارک سربراہ کے موقع پر مودی اور نواز شریف کی ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کی دونوں حکومتوں کی جانب سے تردید کی جا چکی ہے۔
افغانستان تک رسائی کے لیے بھارت نے<link type="page"><caption> ایران کی بندگاہ چاہ بہار میں بھی سرمایہ کاری کی </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/05/150505_india_developing_iran_port_sr" platform="highweb"/></link>اور ایرانی ساحلوں سے کابل تک شاہراہ میں بھی سرمایہ لگایا۔ اس کے علاوہ بھارت اسی راستے پر ریل کی پٹری بچھانے پر بھی غور کر رہا تھا لیکن ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے باعث اس منصوبے پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ایران اور افغانستان کے درمیان طویل سفر کے علاوہ یہ راستہ خراب موسم میں بند بھی ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے ذریعے اگر بھارت کو افغانستان تک زمینی رسائی حاصل ہو جاتی ہے تو بھارت کے لیے لامحدود معاشی امکانات کا دروازہ کھل سکتا ہے۔







