ووٹ ڈالنے پر بھائی کے ہاتھوں بہن قتل

مقتولہ کی سہیلی ان بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی تھی جس پر بھائی اور بہن کے درمیان تکرار ہوگئی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمقتولہ کی سہیلی ان بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی تھی جس پر بھائی اور بہن کے درمیان تکرار ہوگئی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے میں بلدیاتی انتخابات میں اجازت کے بغیر ووٹ ڈالنے پر بھائی نے بہن کو قتل کر دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر اور اسلام آباد کے نواحی علاقے ٹیکسلا چوکی کے انچارج محمد ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ آصفہ نورین پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے فارورڈ کہوٹہ کی رہائشی تھیں اور وہ ٹیکسلا میں پرائمری سطح کا ایک نجی سکول چلاتی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس علاقے میں منتقل ہونے سے پہلے آصفہ نورین اسلام آباد کے نواحی علاقے سرائے خربوزہ میں رہائشی تھی جہاں پر اُن کے اور اہلخانہ کے ووٹ رجسٹرڈ ہوئے تھے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے بقول پیر کے روز وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے اس یونین کونسل میں پہنچی جہاں پر اُن کا ووٹ رجسٹرڈ تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’مقتولہ جب ووٹ ڈال کر گھر واپس آئی تو آصفہ نورین کا بھائی ملزم دانش علی کو جو فروٹ کی ریڑھی لگاتا ہے، جب اس بات کا علم ہوا تو وہ گھر آیا اور اس نے اپنی بہن سے پوچھا کہ وہ اجازت کے بغیر کیوں ووٹ ڈالنے گئی۔‘

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مقتولہ کی سہیلی ان بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی تھی جس پر ان دونوں کے درمیان تکرار ہوگئی۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ملزم نے طیش میں آکر پستول سے فائرنگ کردی جس سے آصفہ نورین موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جبکہ ملزم اسلحہ سمیت جائے حادثہ سے فرار ہوگیا۔

پولیس نے خاتون کے قتل کا مقدمہ اُس کے والد خوشید خان کی مدعیت میں درج کرلیا ہے جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں تاہم ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔