’سیاست ہی ہمیں انسان بناتی ہے‘

اسلام آباد کی کچی بستی کے پشتون باسیوں میں ایک کمیونسٹ پارٹی کی مقبولیت دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی ہے
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کی کچی بستی کے پشتون باسیوں میں ایک کمیونسٹ پارٹی کی مقبولیت دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی ہے
    • مصنف, ظفر سید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’میڈم، وہ انھیں دو دو ہزار روپے دے رہے ہیں، سب لوگ ادھر جا رہے ہیں۔‘

’ہاں تو ٹھیک ہے، اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو ایک بار پھر ان کے ساتھ وہی ہو گا جو ہوتا رہا ہے۔‘ یہ الفاظ تھے عالیہ امیر علی کے جو اسلام آباد کے ایک کونے پر آئی الیون میں سرخ لٹھے کے لباس میں ملبوس عوامی ورکر پارٹی کے کیمپ کے سامنے زمین ہی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔

اسلام آباد کے سیکٹر آئی الیون میں ایک افغان بستی قائم تھی جسے چند ماہ قبل اسلام آباد کی بلدیہ نے آپریشن کر کے ڈھا دیا تھا۔ اس موقعے پر عوامی ورکر پارٹی ڈٹ کر بستی والوں کا ساتھ دیا تھا۔ وہ بستی کو گرنے سے تو نہیں بچا سکے لیکن اس دوران انھوں نے بستی والوں کے دل ضرور جیت لیے۔

عالیہ امیر علی بھی اس مہم میں پیش پیش تھیں۔ انھوں نے اپنی پارٹی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: ’یہ جماعت ڈھائی سال پہلے تین جماعتوں کے انضمام کے بعد وجود میں آئی۔ اس سے پہلے ہم جدوجہد کی سیاست کر رہے تھے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ ہم انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بدلے ہوئے حالات میں ہماری حکمتِ عملی تو بدلی ہے لیکن ہمارا نظریہ آج بھی جوں کا توں ہے۔

اور نظریہ ہے کیا؟

ہم مارکسسٹ پارٹی ہے، غیرطبقاتی نظام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ایک ایسی دنیا کے لیے جس میں کوئی استحصال نہ ہو اور جس میں نہ صرف محنت کش بلکہ استحصال کا شکار تمام طبقے، خواتین اور قومیں باعزت اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

مجھے افغان بستی کے ملبے کے قریب قائم بوکڑہ پولنگ سٹیشن کے باہر ایک ووٹر خادم اللہ نے کہ ہم دل و جان سے عوامی ورکر پارٹی کے ساتھ ہیں کیوں کہ انھوں نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا تھا اور ہمارا مقدمہ بھی لڑ رہے ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے درجنوں دوسرے پشتو بولنے والے ووٹر جمع ہو گئے جنھوں نے سروں پر عوامی ورکر پارٹی کی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور ان کے سینوں پر بھی اسی جماعت کے سرخ بیج آویزاں تھے۔

لیکن یہ بستی تو ’افغان‘ بستی کہلاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں افغانی رہتے تھے؟

یہ سن کر میرے اردگرد کھڑے کئی لوگوں نے جیب سے شناختی کارڈ نکال لیے۔ کئی یہ ثابت کرنے کے لیے انگوٹھے دکھانے لگے کہ ان کا ووٹ یہاں کا بنا ہوا ہے اور وہ ابھی ابھی ووٹ ڈال کر آئے ہیں۔

میں نے عالیہ سے پوچھا، ’بھارت میں بائیں بازو کی پارٹیوں کی جڑیں مضبوط ہیں، اس کے مقابلے پر پاکستان میں کمیونسٹوں کو عوامی پذیرائی کیوں حاصل نہیں ہو سکی؟‘

’یہاں بائیں بازو تو کیا، سیاست کرنا ہی جرم تصور کیا جاتا رہا ہے۔ جب سے پاکستان کا قیام ہوا اسی وقت سے سیاست کو اور سیاست دانوں کو بدنام کر کے رکھا گیا ہے۔ اس سے بائیں بازو تو درکنار، لوگ سیاست ہی سے بدظن ہو گئے۔ انھی لوگوں کو سیاست کا قائل کرنا ہی ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ہمارے مختصر تجربے نے ثابت کیا ہے کہ لوگوں کو منظم کیا جا سکتا ہے، اور یہی چیز آپ ہمارے اردگرد کھڑے لوگوں کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔‘

عالیہ امیرعلی معروف سائنس دان اور دانشور ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی صاحبزادی ہیں۔ وہ اپنے سیاسی سفر کو اپنے والدین کی تربیت کا ثمر قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میرے نزدیک سیاست وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہم سب انسان بن سکتے ہیں، ورنہ ہم سب اپنی اپنی تنگ و تاریک زندگیوں میں مقید رہیں گے۔ میں اسلام آباد کی باسی ہوں لیکن سیاست میں حصہ لینے کے بعد میں نے جس طرح سے اس شہر کو جانا ہے، وہ نہ جانتی۔

’سیاست سیاست دانوں کا کام ہی نہیں ہے، یہ لوگوں کا کام ہے۔ ہمارا مقصد ایسی سیاست کرنا ہے، جو پیسے کے گرد نہ گھومے، جو کاروبار نہ ہو بلکہ لوگوں کے اجتماعی مسائل کا اجتماعی حل تلاش کرنا سیاست ہے۔ سیاست لوگوں کو اپنی خامیوں اور خوبیوں دونوں کا احساس دلاتی ہے۔ باقی ن م ل ق وغیرہ سیاست نہیں بلکہ کاروبار کرتے ہیں۔‘

عالیہ امیر علی کہتی ہیں کہ ’سیاست سیاست دانوں کا کام ہی نہیں ہے، بلکہ لوگوں کا کام ہے‘
،تصویر کا کیپشنعالیہ امیر علی کہتی ہیں کہ ’سیاست سیاست دانوں کا کام ہی نہیں ہے، بلکہ لوگوں کا کام ہے‘

میں نے عالیہ سے پوچھا کہ سوویت یونین کے انہدام اور چین کے سرمایہ کارانہ نظام کی طرف مراجعت سے مارکسی فلسفہ کچھ کمزور نہیں پڑ گیا؟

’مارکسزم پہلی چیز یہی سکھاتا ہے کہ صرف تبدیلی ہی مستقل چیز ہے، باقی ہر چیز بدلتی رہتی ہے۔ میرے خیال میں غلطی سے بچا نہیں جا سکتا، جس چیز سے بچا جا سکتا ہے وہ ہے کہ ہم جو غلطیاں مستقبل میں کریں وہ نئی غلطیاں ہوں، پرانی نہ ہوں۔

’موجودہ دنیا کے حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ مارکسزم بالکل بھی ناکام نہیں ہوا۔ آپ یورپ کو دیکھ لیں، نیپال کو دیکھ لیں، ہندوستان کو دیکھ لیں، خود پاکستان کو دیکھ لیں۔ ہماری جماعت کو ابھی تین سال بھی نہیں ہوئے، اور بلدیاتی انتخابات کے نتیجے سے قطع نظر لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ یہاں پر غریبوں کی ایک تنظیم ہے جس کے پاس نوٹ نہیں ہے، لیکن جو پرعزم ہیں اور جو قربانی دے سکتے ہیں۔‘

عالیہ کی جدوجہد اپنی جگہ لیکن ایک نئی پارٹی اور وہ بھی انتہائی بائیں بازو کی جماعت کے لیے انتخابات میں کسی قسم کا تاثر چھوڑنا آسان نہیں ہو گا، خاص طور پر ایسے ماحول میں جب دوسری پارٹیاں ہر ووٹر کو دو دو ہزار روپے دینے کی سکت رکھتی ہوں۔