’گھر سے باہر رکنا صرف مردوں تک محدود کیوں؟‘

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی معاشرے میں لڑکیوں اور خواتین کے گلی محلوں میں کھیلنے یا ڈھابوں جیسے عوامی مقامات پر بیٹھنے کو نامناسب سمجھا جاتا ہے۔

اسی لیے اکثر ایسے مقامات پر خواتین نظر نہیں آتیں لیکن کراچی سے تعلق رکھنے والی چند نوجوان لڑکیوں نے اس رجحان کے خلاف ’گرلز ایٹ ڈھاباز‘ کے نام سےسوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے جو کافی مقبولیت اختیار کر گئی ہے۔

24 سالہ سعدیہ کھتری اس مہم کی بانی ہیں۔ حال میں امریکہ سے تعلیم مکمل کر کے واپس آنے والی سعدیہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے ماحول میں خواتین کے لیے تفریق کے سبب ان کے مختلف تخلیقی کام متاثر ہوتے ہیں۔

’ملک واپس آ کے کافی چیزوں کے بارے میں جھٹکا لگتا ہے۔ آپ گھوم رہے ہوں تو عورتیں نظر نہیں آتیں۔ ملک سے باہر میں سڑکوں پہ گھومتی تھی، مجھے باہرگھومنے اور تخلیقی چیزیں کرنے کا بہت شوق ہے جو یہاں پہ نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ یہاں وہ ماحول ہی نہیں ہے۔‘

سعدیہ بتاتی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر ڈھابوں پہ جایا کرتی تھیں اور وہاں خواتین کی عدم موجودگی پر بحث ہوا کرتی تھی۔

’میرے دوستوں میں ایک بڑی تعداد لڑکوں کی بھی ہے اور ڈھابوں پہ جانا ان کے معمولات میں شامل ہے۔ ایک رات میں ایک ڈھابے پر بیٹھی تھی کہ ایک دوست نے کہا کہ ’گرلز ایٹ ڈھاباز‘ کا ہیش ٹیگ لگاؤ، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘

سعدیہ بتاتی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر ڈھابوں پہ جایا کرتی تھیں اور وہاں خواتین کی عدم موجودگی پر بحث ہوا کرتی تھی
،تصویر کا کیپشنسعدیہ بتاتی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر ڈھابوں پہ جایا کرتی تھیں اور وہاں خواتین کی عدم موجودگی پر بحث ہوا کرتی تھی

ان کے اس ہیش ٹیگ نے سوشل میڈیا پر کافی مقبولیت حاصل کی اور ان کے دوستوں کے علاوہ پاکستان اور بھارت سے بھی لڑکیوں نے اس ہیش ٹیگ کے تحت تصویریں بھیجنا شروع کر دیں۔

سعدیہ کے مطابق ’ہم نے تفریح اور تجسس میں یہ کام کیا تھا کہ دیکھیں لوگوں کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے کیونکہ ہم اکثر بات کیا کرتے تھے کہ یہاں خواتین کا کیا حال ہے اور عوامی مقامات پہ خواتین کا بالکل نہ جانا ایسی معمول کی بات بن گئی ہے کہ لوگ سوچتے ہی نہیں کہ یہ ایک مسئلہ ہے۔‘

اس ہیش ٹیگ کی مقبولیت کا نتیجہ تھا کہ لڑکیوں کی ڈھابوں پہ ملاقاتیں شروع ہوئیں اور علامتی کرکٹ میچ کھیلے جانے لگے۔

’ کافی لڑکیوں نے کہا کہ ہم پہلے کبھی ڈھابوں پر گئے نہیں ہیں۔ اگر کوئی ہمارے ساتھ ہو تو شاید ہم جائیں۔ ہم نے سوچا کہ شاید وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ ہم نےکراچی اور لاہور میں ڈھابوں پہ ملاقاتیں رکھیں۔‘

سعدیہ کے مطابق ’اس کے علاوہ بہت سی لڑکیاں کرکٹ میں دلچسپی رکھتی ہیں لیکن ہمارے یہاں یہ کلچر نہیں کہ وہ گلی محلوں میں کھیلیں۔ اسی لیے میچ رکھے جس میں بیس پچیس لوگ آئے۔‘

سعدیہ کے دوستوں نے ان کی اس مہم کی بھرپورحمایت کی۔

ان کی دوست سارہ نثار کا موقف ہے کہ ’سب گھر میں نہیں بندھے رہتے۔ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ گھر سے باہر رکنا صرف مردوں کے لیے کیوں محدود ہوگیا ہے۔‘

ہیش ٹیگ کی مقبولیت کا نتیجہ تھا کہ لڑکیوں کی ڈھابوں پہ ملاقاتیں شروع ہوئیں اور علامتی کرکٹ میچ کھیلے جانے لگے

،تصویر کا ذریعہFB

،تصویر کا کیپشنہیش ٹیگ کی مقبولیت کا نتیجہ تھا کہ لڑکیوں کی ڈھابوں پہ ملاقاتیں شروع ہوئیں اور علامتی کرکٹ میچ کھیلے جانے لگے

خواتین کے ردِعمل کی بات کرتے ہوئے سعدیہ نے بتایا کہ ’کافی خواتین نے رابطہ کیا اور وہ بھی اس مہم کا حصہ بننا چاہتی ہیں جو ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند بات ہے۔‘

سعدیہ سمجھتی ہیں کہ ’گرلز ایٹ ڈھاباز کی کوششوں کو ابھی مہم کہنا غلط ہوگا کیونکہ اس کام میں مجموعی طور پر 20 لڑکیاں فعال ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’لوگ شکایت کرتے ہیں کہ یہ امیر طبقے کی مہم ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم تمام طبقوں کی خواتین کو دعوت دیتے ہیں۔ جو لڑکیاں گرلز ایٹ ڈھاباز میں نہیں ہیں وہ کہیں نہ کہیں ان چیزوں کے خلاف بولتیں ہیں لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس مسئلے پر خواتین کی مجموعی نمائندگی ہو اور وہ کہیں ایک ساتھ نظر آئیں۔‘

سعدیہ کھتری اور اس مہم میں شامل دیگر لڑکیاں اب کوشش کررہی ہیں کہ خواتین کے لیے ایک ڈھابہ کھولا جائے۔ اس ڈھابے کو کھولنے کے لیےانھوں نےاگلے سال مارچ تک کا ہدف رکھا ہےاور اس دوران وہ مختلف طریقوں سے دس ہزار ڈالرز جمع کر رہی ہیں۔

’ہمارے خیال میں اس ساری مہم میں منطقی طور پر اگلا قدم خواتین کے لیے ڈھابے کا قیام ہے۔ ہم نے سوچا کہ ایک ایسا ڈھابہ کھولیں جو خواتین کے لیے ہو اور اسے خواتین ہی چلائیں تو شاید اور عورتیں باہر نکلیں۔اس سے خواتین کسی عوامی مقام پہ سامنے تو آئیں گی۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ڈھابے کے قیام کا مقصد خواتین اور مردوں کے درمیان تفریق کرنا یا الگ ماحول کو فروغ دینا نہیں ہے اور اس لیے یہ صرف خواتین کی جگہ نہیں ہوگی بلکہ یہ ڈھابہ سب کا ہوگا۔