100 خواتین: غیر مطلوب لڑکیوں کو نئے نام دینے کی مہم

مہاراشٹر میں 285 غیر مطلوب لڑکیوں کی شناخت کی گئی جنھیں نکوشا کہا جاتا تھا
،تصویر کا کیپشنمہاراشٹر میں 285 غیر مطلوب لڑکیوں کی شناخت کی گئی جنھیں نکوشا کہا جاتا تھا
    • مصنف, سواتی بخشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ستارا کے ایک گاؤں میں رہنے والی نیکیتا 11 سال کی ہیں لیکن یہ نام انھیں ان کے والدین نے نہیں بلکہ چار سال پہلے یہاں کی ضلع کونسل نے دیا ہے۔

نیکیتا کو اس سے پہلے ’نكوشا‘ یا ’نكوشي‘ کہا جاتا تھا جس کا مطلب ہے ’غیر مطلوب، ان چاہی۔‘

بھارت میں بیٹے کی چاہ رکھنے والے ماں باپ اکثر تیسری بیٹی ہونے پر اسے نكوشا کہتے ہیں تاکہ اس کے بعد اگر گھر میں بچہ ہو توگائے ہو اور کسی بیٹی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔

سنہ 2011 میں ستارا کی ضلع کونسل نے لڑکیوں کے متعلق منفی رویے میں تبدیلی لانے کے لیے انھیں نام دینے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں اب تک 285 نكوشاؤں کی شناخت ہوئی ہے اور ان میں سے تقریبا 265 کو نیا نام دیا گيا ہے۔

اس نکوشا کا نام نیکیتا دیا گیا ہے اور وہ اپنے نئے نام سے بہت خوش ہے
،تصویر کا کیپشناس نکوشا کا نام نیکیتا دیا گیا ہے اور وہ اپنے نئے نام سے بہت خوش ہے

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئے نام سے لوگوں کے ذہنوں میں بیٹیوں کے غیر مطلوب ہونے کے رجحان میں کمی آئے گي۔

لیکن کیا نام تبدیل کرنے سے ان لڑکیوں کی زندگیوں پر کوئی اثر پڑا ہے؟

چار سال پہلے نكوشا سے نیکیتا بننے والی 11 سال کی نیکیتا پرجوش انداز میں کہتی ہیں: ’پہلے مجھے گھر پر اور باہر بھی نكوشا کہا جاتا تھا۔ سب مجھے نكوشا کہہ کر چڑاتے تھے اور مجھے بہت غصہ آتا تھا۔ پھر میرا نام نیکیتا کر دیا گیا۔‘

ان کے مطابق ’اب گھر اور سکول میں سب مجھے نیکیتا ہی کہتے ہیں۔ مجھے اپنا نیا نام بہت پسند ہے۔ میں چھٹی کلاس میں پڑھتی ہوں اور بڑی ہو کر پولیس افسر بننا چاہتی ہوں۔‘

جن لڑکیوں کے نام بدلے گئے ان میں سے زیادہ تر کی یا تو شادی ہو چکی ہے یا پھر وہ حصولِ تعلیم کے لیے دوسری جگہ چلی گئی ہیں۔

ایشوریہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے لیکن غربت و افلاس سے خوفزدہ بھی نظر آتی ہے
،تصویر کا کیپشنایشوریہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے لیکن غربت و افلاس سے خوفزدہ بھی نظر آتی ہے

13 سال کی ایک لڑکی جنھیں چار سال پہلے نیا نام ایشوریہ دیا گیا، جذباتی انداز میں کہتی ہیں: ’میں اپنی ماں کے ساتھ ستارا نام تبدیل کرنے گئی تھی پھر میرا نام ایشوریا رکھا گیا۔ نكوشا نام مجھے بالکل پسند نہیں تھا۔ میری چار بڑی بہنیں ہیں جن میں سے دو کی شادی ہو چکی ہے۔ میں روز اپنے گاؤں سے پیدل سکول جاتی ہوں۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں لیکن ہم غریب ہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں: ’جب سے میرا نام ایشوریہ رکھا گیا ہے اس کے بعد سے میرے خاندان والے اور سہیلیاں اسی نام سے پکارتے ہیں۔‘

کیا نام بدلنے کی یہ مہم کامیاب ہوئی ہے؟

ورشا دیش پانڈے پیشے سے وکیل ہیں اور وہ اس مہم کے ذریعے لڑکیوں کے متعلق ذہنیت میں تبدیلی چاہتی ہیں
،تصویر کا کیپشنورشا دیش پانڈے پیشے سے وکیل ہیں اور وہ اس مہم کے ذریعے لڑکیوں کے متعلق ذہنیت میں تبدیلی چاہتی ہیں

نام بدلنے کی مہم کا حصہ رہنے والی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل ورشا دیش پانڈے کہتی ہیں: ’نام رکھنے کا مقصد ذہنیت میں تبدیلی کی طرف ایک قدم تھا۔ میں پھر بھی ان لوگوں کو برا نہیں کہوں گی جو کم از کم لڑکیوں کو نكوشا کہہ کر رہنے تو دیتے ہیں۔ زیادہ بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ غیر ملکی مشینوں کے ذریعہ بیٹیوں کو غیر قانونی طریقے سے مارا جا رہا ہے۔‘

ورشا بتاتی ہیں: ’ہم نے رحم مادر میں بچے کی جنس کی شناخت کر کے اسے ختم کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف مہم چلائی۔ بہت سے ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ چلا اور چل رہا ہے۔ ان میں چھ کو جیل ہوئی ہے۔ انتظامیہ پر اس کے متعلق قانون کو سختی سے نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا میرے خیال سے زیادہ اہم ہے۔‘

ستارا کے ضلع مجسٹریٹ اشون مدگل کہتے ہیں کہ ’اس کا سب بڑا اثر جنس کے تناسب پر پڑا ہے۔ پہلے ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں 881 لڑکیاں تھا اور اب یہ تعداد 923 ہے اور اب وہاں لوگوں نے اپنی بچیوں کو نکوشا کہنا بند کر دیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد سے پیدائش سے قبل ہی رحم مادر میں لڑکیوں کو مارنے والے قانون کے نفاذ میں سختی لائی گئی ہے۔

نام بدلنے کی یہ مہم لڑکیوں کے لیے اہم ہے اس سے سماج میں مثبت پیغام پہنچا ہے لیکن کیا اس ان لڑکیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے یہ سوال بھی اہم ہے۔