’خاتون کچھ کرنے کی ٹھان لے تو باغی قرار دی جاتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی نے اپنے سنہ 2015 کے ’100 خواتین‘ سیزن کے لیے دنیا بھر سے، زندگی کے تمام شعبوں اور عمر کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کا انتخاب کیا ہے جنھوں نے دیگر خواتین کو کچھ کرنے کی تحریک دی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا سے ممبئی میں بی بی سی کی يوگیتا لیمائے نے گفتگو کی ہے۔
سٹار ثانیہ مرزا کھیل کے شعبے میں برصغیر میں آئیکون کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں لیکن ان کی آئیڈیل ان کی والدہ ہیں جبکہ ٹینس کی دنیا میں سٹیفی گراف ان کی تحریک ہیں۔
انھوں نے بتایا: ’جب میں بڑی ہو رہی تھی تو مجھ پر سٹیفی کے بہت اثرات مرتب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کے والدین ان کے لیے بڑے محرک رہے ہیں خصوصاً ان کی والدہ۔
انھوں نے بتایا کہ چھ سال کی عمر میں میری والدہ مجھے ٹینس کھیلنے لے گئیں جب وہاں میری عمر پر بات کی گئی کہ یہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے تو وہاں کی انتظامیہ سے ایک طرح سے لڑ پڑیں کہ آپ کو اسے رکھنا ہے تو رکھیں ورنہ میں کہیں اور انتظام کروں گی۔
انھوں نے بتایا کہ کرکٹ کے اس ملک میں 23 سال قبل کسی ماں کی جانب سے یہ قدم انوکھا اور کسی عجوبے سے کم نہیں تھا اور وہ بھی کسی لڑکی کو ایسے کھیل میں ڈالنے کے لیے جس کا رواج عام نہیں تھا۔

کیا انھیں لڑکی ہونے کے ناطے کسی قسم کی عدم رواداری کا شکار ہونا پڑا؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انھیں اس سے سابقہ نہیں پڑا لیکن یہ دنیا مردوں کی ہے اور اس میں کسی بھی جگہ خواتین کو اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اپنے ابتدائی کریئر کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ وہ رولر سکیٹس بھی کرتی تھیں، عام بچی کی طرح تھیں، پڑھائی بھی کرتی تھیں لیکن ٹینس میں اچھی تھیں تو انھوں نے اس پر زیادہ زور دیا۔
انھوں نے بتایا: مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں آٹھ سال کی تھی تو میں نے ایک 16 سال کی لڑکی کو ہرایا تھا اور یہ بڑی حوصلہ افزا بات تھی۔ مجھے اس لڑکی کا رونا آج بھی یاد ہے کہ وہ اپنی آدھی عمر کی لڑکی سے ہار گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
سٹارڈم کا احساس کب ہوا؟ اس پر ثانیہ مرزا نے بتایا کہ جب وہ جونیئر ومبلڈن جیت کر آئیں تو ان کے لیے ایئرپورٹ پر لوگ تھے اور ان کے لیے اوپن سٹیڈیم میں پروگرام کیا گیا تھا۔
’تمام لوگ مبارکباد دے رہے تھے۔ فون کی گھنٹی رکنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ انڈورسمنٹ تھے۔ ہر اخبار میں تصاویر تھیں۔ اشتہار تھے۔ پروگرام تھے اور میں اس وقت صرف 15 یا 16 سال کی تھی۔ اچھا بھی لگتا تھا لیکن اسے سنبھالنا نہیں آتا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ جب جونیئر سے سینیئر گریڈ میں پہنچی تو پھر بڑی تبدیلیاں آئيں۔ مقابلہ سخت ہوا۔ تنقید ہوئی۔ بہت غصہ نہیں آیا لیکن ایسا ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
لباس پر تنازعے کے متعلق انھوں نے بتایا کہ وہ اس سے پریشان نہیں ہوئي تھیں کیونکہ ان کے پاس سکیورٹی تھی اور وہ اس چیز کو پہلے بھی دیکھ چکی تھیں جب لوگ کہتے تھے لڑکی ہو کر کھیل رہی ہے، کالی ہو جائے گی، وغیرہ۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات پرانی ہو چکی ہے اور وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتیں۔ وہ اپنی سوانح لکھ رہی ہیں جس میں تمام باتوں کا ذکر ہوگا۔
خواتین اور مرد کے درمیان امتیاز پر انھوں نے کہا کہ یہ فطری ہے اور ہر جگہ ہے۔ جب کوئی خاتون کچھ کرنے کی ٹھان لیتی ہے تو اسے مغرور اور باغی کہتے ہیں لیکن جب مرد ویسا کرتا ہے تو اس کی پذیرائی ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے کہا کہ ایک ٹین ایجر کے طور پر انھیں پہلے جو چیزیں پریشان کرتی تھیں اب نہیں کرتیں۔
اس کے علاوہ ثانیہ مرزا نے بتایا کہ ان کے ساتھ میڈیا بھی میچور ہوا ہے۔ ورنہ پہلے ایسے سوال کیے جاتے تھے کہ بچے کب ہوں گے۔ ارے بھئی ابھی تو ہمارا کھیل ختم ہوا ہے اور دوسرے دن مجھ سے یہ سوال کیا جا رہا۔ کیا ہے یہ۔ میں اپنے بیڈ روم کی باتیں کیوں بتاؤں اور انھیں پوچھنے کا سلیقہ بھی نہیں تھا۔
پاکستانی کھلاڑی سے شادی کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’ہمیں محبت ہو گئی تھی۔ نہ ہم نے ان کے ملک کے بارے میں سوچا تھا اور نہ انھوں نے میرے ملک کے بارے میں۔ اگر وہ ٹمبکٹو کے بھی ہوتے تو بھی ہمیں محبت ہو جاتی۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter The Indian Express
ٹینس میں خواتین اور مردوں کی مساوی اجرت پر انھوں نے کہا کہ دلائل تو بہت ہیں لیکن اب دنیا بدل رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بھارت میں کھیل کے حوالے سے بہت تبدیلی آئي ہے۔ خواتین پروفیشنل باکسنگ، بیڈمنٹن میں آئی ہیں، ان پر فلم بھی بنی ہے۔
انھوں نے سرینا ولیمز اور مارٹینا نووراٹیلوا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اب زیادہ عمر تک کھیل رہی ہیں اور انھوں نے کہا کہ انھیں رواں سال جو کامیابی ملی ہے وہ ناقابل یقین ہے اور آئندہ وہ اسے جاری رکھنے کی کوشش کریں گي۔

حیدرآباد میں اپنی ٹینس اکیڈمی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ میں بھارت میں ٹینس کی وراثت کو قائم دیکھنا چاہتی ہوں۔



