اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 50 یونین کونسلوں پر بلدیاتی انتخابات میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ووٹ ڈالنے کا عمل صبح سات سے شام ساڑھے پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔
ان انتخابات میں ملک کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے بیشتر نشستوں پر یا امیدوار کھڑے کیے ہیں یا وہاں دیگر جماعتوں سے اتحاد کیا ہے۔
جماعتی بنیادوں پر ہونے والے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات سرکاری ملازمین کو ایک گھنٹہ چھٹی دے دی گئی تھی تاکہ وہ اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں جس پر اکثر ملازمین نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جان بوجھ کر اُنھیں ووٹ ڈالنے کے لیے کم وقت دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ملازمین کے مطابق چونکہ ایک شخص کو چھ ووٹ کاسٹ کرنا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اس لیے بہت سے سرکاری ملازمین اپنا ووٹ نہیں ڈال سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نامہ نگار کے مطابق اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں وفاقی دارالحکومت میں واقع مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی شرائط پر اُمیدواروں سے اپنے مطالبات منوائے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان آبادیوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے مبینہ طور پر ان امیدواروں سے مالی فوائد بھی حاصل کیے ہیں۔
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے موقعے پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے جہاں پر پولیس کے علاوہ رینجرز اور فوج کے اہلکار بھی تعینات تھے۔
سرکاری ٹی وی نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ دارالحکومت میں ووٹروں کی کل تعداد چھ لاکھ 76 ہزار 795 ہے۔
یہ ووٹر 650 نشستوں کے لیے میدان میں اترنے والے 2396 امیدواروں میں سے چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلروں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ایک کنٹرول روم قائم کیا ہے جبکہ ووٹروں کی سہولت کے لیے ویب سائٹ پر آن لائن معلومات بھی دی جا رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے دوران سکیورٹی کی فراہمی کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے فوج، رینجرز اور ایف سی کے جوان تعینات کیے گئے ہیں۔
پولیس کے ہمراہ رینجرز کے 700 اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں جبکہ امن وامان برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے ایف سی کے 1000 اہلکار بھی علاقے میں موجود ہیں۔
حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں پر ایک رینجر اور 15 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ہر حساس پولنگ سٹیشن پر سات پولیس اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق فوج بھی سریع الحرکت فورس کے طور پر الرٹ رہے گی۔







