خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی برتری

 غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے ڈسٹرکٹ کونسلز کی 109 نشستوں میں سے 52 نشتیں حاصل کیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے ڈسٹرکٹ کونسلز کی 109 نشستوں میں سے 52 نشتیں حاصل کیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے 15 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں دوبارہ پولنگ کے بعد پاکستان تحریک انصاف سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت بن گئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر آزاد اراکین ہیں۔

حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اورپاکستان مسلم لیگ نواز کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔

گذشتہ روز 15 ضلاع کے 358 پولنگ سٹیشنز میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے ڈسٹرکٹ کونسلز کی 109 نشستوں میں سے 52 نشتیں حاصل کیں، آزاد امیدواروں نے 24 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے صرف 14 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔

عوامی نیشنل پارٹی نو نشستیں حاصل کر پائی اور پاکستان مسلم لیگ نواز صرف تین نشستوں تک محدود رہی۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل احمد کے مطابق دوبارہ پولنگ کے بعد اب نتائج کو اکھٹا کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حتمی نتائج کے بعد آزاد اراکین کسی ایک سیاسی جماعت میں شمولیت کے لیے الیکشن کمشن کو درخواست دیں گے اور پھر مخصوص نشستوں پر تعیناتی کا عمل ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ آخری مرحلے میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعتیں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر حکومت سازی کریں گی۔

اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اکثر اضلاع میں برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

کل 950 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی صرف 45 نشستیں ہی جیت سکی
،تصویر کا کیپشنکل 950 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی صرف 45 نشستیں ہی جیت سکی

تحریکِ انصاف کے رہنما یونس ظہیر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ صوبے کے 17 سے 18اضلاع میں حکومت کر سکتے ہیں اور اس کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ دوبارہ پولنگ میں تحریک انصاف نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے اور صرف پشاور کی 11 یونین کونسلز میں سے نو میں تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں پائیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک کارکن مشعل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کل 950 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی صرف 45 نشستیں ہی جیت سکی ہے اور اس کی بڑی وجہ مرکزی قائدین کی عدم توجہ ہے اور جماعت کا تنطیمی ڈھانچہ ہی صحیح نہ ہونا ہے۔

تحریکِ انصاف پشاور ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، ایبٹ آباد، مردان جبکہ جمعیت علمائے اسلام لکی مروت اور بنوں ضلع میں آگے ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی صوابی اور چارسدہ میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔

پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں حکومت سازی کرے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بعض بڑے رہنما جن میں جماعت کے سابق صدور بھی شامل ہیں وہ بھی اپنی نشستیں نہیں جیت سکے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز نے مانسہرہ میں برتری حاصل کی ہے لیکن دیگر چند اضلاع میں جماعت کی پوزیشن چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہے اور اکثر میں مسلم لیگ کے اراکین کی تعداد انتہائی کم ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سال 2013 کے عام انتخابات کی نسبت اس مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کی پوزیشن قدرے بہتر دکھائی دیتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا گراف مزید نیچے گرا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت سے کمزور ہونا شروع ہو گئی تھی جب آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ان کے بعد صوبائی سطح پر جماعت کے آٹھ صدر تبدیل کیے گیے ہیں لیکن جماعت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔