بلدیاتی الیکشن میں ’دھاندلی‘ کے خلاف ہڑتال کا اعلان

موجودہ صوبائی حکومت مستعفی ہو، ایک نگراں سیٹ اپ آئے اور اس کی زیرِ نگرانی انتخابات ہوں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنموجودہ صوبائی حکومت مستعفی ہو، ایک نگراں سیٹ اپ آئے اور اس کی زیرِ نگرانی انتخابات ہوں
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخاب میں حصہ لینے والی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت پر انتخابی دھاندلیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل اس سہ فریقی اتحاد کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو 10 جون سے صوبے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ اطلاعات اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے اس بارے میں بی بی سی اردو کو بتایا کہ بلدیاتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور حکومتی مشینری کا استعمال کیا گیا۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ تینوں سیاسی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ ’موجودہ صوبائی حکومت مستعفی ہو، ایک نگراں سیٹ اپ آئے اور اس کی زیرِ نگرانی انتخابات ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی آئینی اور اخلاقی جواز ختم ہوگیا ہے، ہم وہ لوگ تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ تحفظات کے باوجود ان کے پاس مینڈیٹ ہے لیکن اب وہ مینڈیٹ اور وہ اہمیت وہ کھو چکے ہیں۔‘

دو پیمانے کیوں؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ فوج کی زیرِ نگرانی دوبارہ بلدیاتی انتخابات ہو سکتے ہیں ایسے میں احتجاج کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟

اس سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت کی موجودگی میں الیکشن بے کار ہیں۔

’اگر عمران خان خود کہہ رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی، جماعتِ اسلامی بھی کہہ رہی ہے دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی کہہ رہی ہیں تو موجودہ حکومت کا جواز کیا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ عمران حان نے نواز شریف سے کہا تھا کہ دھاندلی ہوئی آپ مستعفی ہوں حالانکہ وہ انتخابات نگراں حکومت میں ہوئے تھے۔

عمران خان اور 14طاہرالقادری نے اگست کو عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے باعث وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا
،تصویر کا کیپشنعمران خان اور 14طاہرالقادری نے اگست کو عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے باعث وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا

اے این پی کے رہنما نے سوال کیا کہ بیک وقت دو پیمانے کیوں؟ نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا مگر اب چونکہ ان کی حکومت نے خود دھاندلی کی تو وہ اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جو مطالبہ عمران خان نواز شریف کے لیے کر رہے تھے ہم وہی مطالبہ آج پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے کر رہے ہیں۔‘

افتخار حسین نے الزام عائد کیا کہ کے پی کے کا کوئی بھی پولنگ سٹیشن ایسا نہیں جہاں دھاندلی نہ ہوئی ہو۔

یہ احتجاج کب تک جاری رہے گا اور کیا یہ بھی عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف گذشتہ سال اگست میں شروع ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنے کی مانند تو نہیں ہوگا؟

اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ تین جماعتوں کا یہ احتجاج صرف خیبر پختونخوا میں ہی ہوگا۔

’10 جون کو جلسے اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی صورت میں شروع ہونے والا احتجاج کے پی کے حکومت کے مستعفی ہونے تک جاری رہے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ بلدیاتی انتخابات اور ان کے بعد ہونے والے پر تشدد واقعات میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات اور دیر لوئر میں بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے ووٹ کا حق نہ دینے کے خلاف بعض حلقوں میں خواتین احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں۔