مولانا عزیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے: وفاقی حکومت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی حکومت نے قانون نافد کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ان کی سرگرمیاں امن وامان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
وزارت داخلہ کی طرف سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ سویلین اور خفیہ فوجی اداروں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب نے ملک میں تحریک نفاذ قرآن و سنت کے اعلان کے بعد ایسی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اُن کی تحریک میں شمولت پر قائل کیا جا سکتا ہے۔
اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب وفاقی دارالحکومت میں امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کی تاریخ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کے عجیب وغریب رویے، بین الاقوامی برادری میں ملک کے تشخص کو خراب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مشکوک سرگرمیاں بھی شہر میں بدامنی کا باعث بن سکتی ہیں۔
وفاقی حکومت کے اس خط کے بعد لال مسجد کے سابق خطیب نے ایک تحریری اور آڈیو بیان جاری کیا ہے۔ جس میں انھوں نے کہا کہ تمام اداروں کے اہلکار شریعت کے منافی احکامات نہ مانیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ملک میں 30 سال سے نفاذ شریعت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
’میڈیا، فوج، رینجرز اور پولیس سمیت تمام اداروں پر لازم ہے کہ وہ حکامِ بالا کے صرف انھیں احکامات کو مانیں جو شریعت کے مطابق ہیں۔‘
مولانا عبدالعزیز کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج جو لوگ ہمیں دہشت گرد کہہ رہیں وہ خود لاکھوں جوانوں کو عقوبت خانے میں ڈالیں کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟ لال مسجد کو ملیامیٹ کر دیں، کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟‘
واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کی زیر نگرانی خواتین کے مدرسے جامعہ سمیعہ (سابق جامعہ حفضہ) کی طالبات نے کچھ عرصہ قبل خود کو دولت اسلامیہ قرار دینے والی تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے پاکستان میں آ کر اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC CULTURE
اس خط کے بعد اسلام آباد پولیس نے ان طالبات کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے وزارت قانون کو ایک مراسلہ بھیجا تھا تاہم اس پر ابھی تک حکومت کی طرف سے پولیس حکام کو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مولانا عبدالعزیز کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نیشنل ایکشن پلان حکومت نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تیار کیا ہے اور اس پلان کو مدارس کا راستہ روکنے اور نفاذِ شریعت کی بات کرنےوالوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے مولانا عبدالعزیز کو دی جانے والی سکیورٹی کو واپس لینے پر لال مسجد کے سابق خطیب نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ انتظامیہ اُنھیں نجی سکیورٹی گارڈ رکھنے کی اجازت نہیں دے رہی۔
مولانا عبدالعزیز کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈیول میں رکھا گیا ہے جس کے تحت اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے شہر میں جانے کے لیے پہلے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں۔







