’حکومت اپنی اسلام مخالف پالیسیاں ختم کرے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس ایک رکنی کمیشن کو لال مسجد کے آپریشن کی تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی سپریم کورٹ نے اس ایک رکنی کمیشن کو لال مسجد کے آپریشن کی تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا

لال مسجد آپریشن سے متعلق فیڈرل شریعت کورٹ کے جج شہزاد شیخ کی سربراہی میں قائم ایک رکنی عدالتی کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم پر اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کی طویل المدتی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت اپنی اسلام مخالف پالیسیاں ختم کرے‘۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں کیے جانے والے فوجی آپریشن سے متعلق تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اس ایک رکنی کمیشن نے چھ نکات سے متعلق تحقیقات کیں۔ ان نکات میں لال مسجد آپریشن کی وجوہات، اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے مرد، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعداد اور ان کی لاشیں شناخت کرنے کے حوالے سے بھی تحقیقات ہوئیں۔

اس رپورٹ میں کئی قلیل المدتی اور طویل المدتی سفارشات دی گئی ہیں۔

قلیل المدتی سفارشات میں کمیشن نے کہا ہے کہ جو لوگ شعائر اسلام کو پامال کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں انکے خلاف شریعت کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔

کمیشن نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا ہے کہ شریعت میں قصاص اور دیت کے قانون کے تحت مرنے والوں کے اہل خانہ کو قصاص یا دیت دی جانی چاہیے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دیت صرف اس صورت میں دی جاسکتی ہے جب ورثاء قصاص معاف کر کے دیت پر رضامند ہو جائیں مگر اہم بات یہ ہے کہ جہاں قصاص یا دیت کی بات کی گئی ہے وہاں اس بات کا رپورٹ میں کوئی ذکر نہیں کہ یہ قصاص یا دیت کس سے لی جائے۔

اس بات کی بھی سفارش کی گئی ہے کہ لال مسجد کے آپریشن کے دوران مرنے والوں کی ایف آئی آر درج کی جائے۔ اسی طرح کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اس آپریشن کے دوران جن افراد کا مالی نقصان ہوا ہے اسے پورا کیا جائے۔

جس پلاٹ پر جامعہ حفصہ موجود تھا اس پلاٹ کے بارے میں سفارش کی گئی ہے کہ اس کو جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کو دے دیا جائے یا سی ڈی اے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اس جگہ پر جامعہ حفصہ کی عمارت تعمیر کر سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں دی جانے والی طویل المدتی سفارشات میں جہاں حکومت سے ’اسلام مخالف‘ پالیسیوں کے خاتمے کو کہا گیا ہے وہیں دارالعلم کے قیام، مدرسوں کے نصاب اور رجسٹریشن جیسی سفارشات کے علاوہ یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ آبادی کے تناسب سے مدرسوں، مساجد یا مساجد میں قائم مدرسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

اس کے علاوہ یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ مدرسوں کے نصاب میں اگر ہو سکے تو جدید علوم کو شامل کیا جائے۔