سندھ میں پولیو مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی سمیت اندرونِ سندھ میں تین روزہ انسدادِ پولیو مہم کے پہلے مرحلے کا پیر سے آغاز کر دیا گیا ہے۔
کراچی میں یہ مہم تین اضلاع میں منعقد کی جا رہی ہے، جس کے دوران 20 لاکھ کے قریب بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔
یونیسیف کے ترجمان عابد حسن نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ انسدادِ پولیو مہم دو مرحلوں میں منعقد کی جائے گی۔
پہلے مرحلے میں 12 نومبرتک ضلع غربی، ضلع وسطی اور ضلع شرقی، جبکہ دوسرے مرحلے میں کورنگی، ملیر، جنوبی اور ضلع شرقی کے کچھ حصوں میں 13 سے 16 نومبر تک یہ مہم چلائی جائے گی۔
انسدادِ پولیو مہم کے پہلے مرحلے میں کل ہدف دس لاکھ 25 ہزار بچے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 953,311 بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
یونیسیف کے ترجمان کے مطابق سندھ پولیس سے کُل چھ ہزار سکیورٹی اہلکار مانگے گئے تھے اور سندھ پولیس کی جانب سے مطلوبہ نفری فراہم کر دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں تین ہزار سکیورٹی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
کراچی کے کئی علاقوں میں بھی والدین بچوں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرتے رہے ہیں، ان ہی علاقوں میں ٹیموں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیسیف کے ترجمان عابد حسن کے مطابق ڈیڑھ سال پہلے تک ایسے علاقوں جانے میں شدید دشواری ہوتی تھی ۔
’ہم نے وہاں کے مدارس سے بات کی اور ہر فرقے کے مدرسے سے فتوے حاصل کیے اور اب ان میں سے کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں کسی ایک بھی مدرسے یا مذہبی جماعت کی جانب سے انسدادِ پولیو مہم کی مخالفت کی گئی ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
اندرونِ سندھ میں بھی عمر کوٹ اور میر پور خاص کے علاوہ تمام اضلاع میں آج پیر سے پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے سندھ پولیس کی جانب سے مناسب سکیورٹی کی عدم فراہمی کے باعث جمعرات کے روز تین روزہ پولیو مہم ملتوی کر دی گئی تھی۔
محکمۂ صحت کا کہنا تھا کہ جب تک پولیو کارکنوں کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کی جائے گی تب تک انسدادِ پولیو مہم کا آغاز نہیں کیا جائے گا کیوں کہ کم سکیورٹی کے ساتھ پولیو کارکن خدشات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کراچی میں گذشتہ چند سالوں میں پولیو کارکنوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں، جن میں سات رضاکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے بعد مہم کے دوران پولیس سکیورٹی کو لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔







