سکیورٹی کی عدم فراہمی، کراچی میں انسدادِ پولیو مہم ملتوی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مناسب سکیورٹی مہیا نہ کیے جانے کے باعث جمعرات سے شروع ہونے والی تین روزہ انسدادِ پولیو مہم ملتوی کر دی گئی۔
یہ مہم تین اضلاع میں منعقد ہونی تھی۔
یونیسیف کے ترجمان عابد حسن نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کے لیے سندھ پولیس سے3000 اہلکار مانگے گئے تھے لیکن صرف 1200 اہلکار دستیاب تھے جس کی وجہ سے یہ مہم ملتوی کرنی پڑی۔
محکمۂ صحت کی ایک افسر ڈاکٹر دُرِشہوار کا کہنا ہے کہ جب تک پولیو ورکرز کو مکمل سیکورٹی فراہم نہیں کی جائے گی تب تک انسدادِ پولیو مہم کا آغاز نہیں کیا جائے گا کیوں کہ کم سکیورٹی کے ساتھ پولیو ورکرز خدشات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’مہم سے قبل اجلاس بھی ہوتے ہیں اور پولیس کی جانب سے مطلوبہ نفری فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جاتی ہے، لیکن عین وقت پر کراچی کے حالات یا کسی اور وجہ سے پولیس کہیں اور مصروف ہوجاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر دُرِ شہوار کا کہنا تھا کہ کم نفری لینے پر وہ آمادہ نہیں جبکہ زیادہ نفری فراہم کرنے کے لیے سندھ پولیس آمادگی ظاہر نہیں کر رہی جس کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا ہے۔
یونیسیف کے ترجمان عابد حسن کا خیال ہے کہ اب یہ مہم پیر کے روز سے ہی دوبارہ شروع ہو سکے گی۔
واضح رہے کہ یہ مہم دو مرحلوں میں شروع ہونی تھی، جس کے پہلے مرحلے میں ضلع غربی، ضلع جنوبی اور ضلع وسطی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسرے مرحلے میں ڈسٹرکٹ ملیر، کورنگی اور ضلع شرقی شامل ہیں۔
پہلے مرحلے میں 10 لاکھ بچوں اور دوسرے مرحلے میں نو لاکھ 75 ہزار بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلائے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کراچی میں گذشتہ چند سالوں میں پولیو وروکرز پر حملے ہوچکے ہیں، جس میں سات رضاکار ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد مہم کے دوران پولیس سکیورٹی کو لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔
صوبہ سندھ میں رواں سال پولیو کے پانچ کیس سامنے آئے ہیں ، جن میں سے ایک کراچی کا ہے۔







