ترکی پاکستان کو 34 جہاز مفت دے گا

،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ترک حکومت نے پاکستان کو گذشتہ روز جن 34 تربیتی ٹی 37 طیاروں اور فاضل پرزوں کی بلامعاوضہ فراہمی کا معاہدہ کیا تھا انھیں پائلٹس کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

یہ طیارے امریکی طیارہ ساز کمپنی سیسنا کے تیار کردہ ہیں اور ان کو پاکستان حوالے کرنے کا فیصلہ پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں کیا گیا مگر آخر پاکستان اتنے پرانے طیارے کیوں حاصل کر رہا ہے؟

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق ان طیاروں کو پاکستان کی خواہش پر فراہم کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی فضائیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پاکستانی فضائیہ کے پاس اس وقت مختلف قسم کے طیارے ہیں جن میں امریکی ایف 16، فرانسیسی میراج اور چین کا تیار کردہ جے ایف سیونٹین تھنڈر شامل ہیں۔ ان طیاروں کے پائلٹوں کی تربیت کے لیے ہمارے پاس قراقرم 8 طیارے اور ٹی 37 طیارے پہلے سے موجود ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’ترکی کے پاس یہ طیارے کافی تعداد میں دستیاب تھے جو انھوں نے ہمیں فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی کیونکہ یہ اب اُن کے زیر استعمال نہیں تھے۔ اور پاکستانی فضائیہ اور ترکی کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون کافی عرصے سے ہے جس کی بنیاد پر انھوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی۔‘

یاد رہے کہ یہ طیارہ دو انجنوں پر مشتمل تربیتی جنگی طیارہ ہے جو زیرِ تربیت پائلٹوں اور نیویگیٹرز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور پاکستانی فضائیہ پہلے سے ان طیاروں کو استمعال کر رہی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس طیارے کی کون سی قسم پاکستان ترکی سے حاصل کر رہا ہے۔

ترک ایروسپیس انڈسٹریز نے پاکستانی فضائیہ کے 41 ایف 16 تیاروں کی تجدید کا کام کیا تھا

،تصویر کا ذریعہTAI

،تصویر کا کیپشنترک ایروسپیس انڈسٹریز نے پاکستانی فضائیہ کے 41 ایف 16 تیاروں کی تجدید کا کام کیا تھا

سرمایہ کاری اور دفاعی معاملات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویلیو واک پر تیمور خان نے لکھا کہ ’یہ طیارے آخری بار 1975 میں تیار کیے گئے تھے جو اب تک ترکی، مراکش اور کولمبیا کی فضائیہ کے زیرِاستعمال ہیں، جو تربیتی مقاصد کے لیے بہترین طیارہ ہے مگر چونکہ یہ 40 سال پرانا طیارہ ہے اس لیے پاکستانی فضائیہ اس کی مرمت پر کافی وقت صرف کرے گی۔‘

پاک فضائیہ کے ایک سینئیر اہلکار نے اس پر بتایا کہ ’ترکی ان طیاروں کے ساتھ فاضل پرزے بھی فراہم کر رہا ہے جو کارآمد ہوں گے اور پی اے ایف کے پاس پہلے سے موجود طیاروں کے فاضل پرزوں کی ضروریات بھی پوری کریں گے۔‘

ان طیاروں کی حوالگی کے معاہدے پر ڈائریکٹر جنرل ڈیفنس پروکیورمنٹ میجر جنرل ندیم احمد اور ترکی کے لاجسٹکس چیف سردار گلباس نے دستخط کیے۔

یاد رہے کہ ترک ایروسپیس انڈسٹریز کی ویب سائٹ کے مطابق اس سے قبل 2009 میں پاکستانی فضائیہ کے زیرِ استعمال 41 ایف 16 طیاروں کی تجدید کا کنٹریکٹ حاصل کر چکی ہے جن میں سے پہلے تین طیارے تجدید کے لیے 2010 کی آخری سہ ماہی میں ترکی پہنچے تھے اور دو ستمبر 2014 کو آخری چار طیارے تجدید کے بعد پاکستانی فضائیہ کے حوالے کیے گئے تھے۔