دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے دو خواہشمند کراچی سےگرفتار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں پولیس حکام کے مطابق دو ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام جانا چاہتے تھے۔
کراچی پولیس کے انسداد دہشت گردی شعبے کے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ کراچی کے کچھ لڑکے باہر گئے ہیں وہ اس کا سراغ لگا رہے تھے کہ وہ کہاں گئے ہیں۔
ان کے مطابق ’زین اپنے والدین کے نام ایک خط چھوڑ کر گئے تھے کہ میں 30 جون کو پیدا ہوا ہوں اور 30 جون کو ہی جا رہا ہوں اب واپس کبھی نہیں آؤں گا، ہم نے سوچا کہ کہیں یہ خودکش بمبار نہ ہو۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ وہ واپس آ گیا ہے۔‘
راجہ عمر خطاب کے مطابق زین شاہد اور بلال رند کو جب حراست میں لیا گیا تو معلوم ہوا کہ انھیں ایران میں ترکی کی سرحد کے قریب گرفتار کیا گیا تھا یہ انسانی سمگلروں کی مدد سے ترکی جا رہے تھے جہاں سے انھیں شام جانا تھا۔
زین شاہد اور بلال رند نےٹی وی چینل جیو نیوز سے بات چیت میں بتایا ہے کہ ان کا دولتِ اسلامیہ سے رابطہ ٹوئٹر کے ذریعے ہوا تھا اور انھیں شام آنے کی دعوت دی گئی تھی۔
زین شاہد کے مطابق ابو خالد نامی شخص نے پوچھا تھا کہ شام آنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ اس نے بتایا تھا کہ شام میں حالات معمول پر ہیں، خالد نے مزید بات چیت کے لیے اس کو شیور سپاٹ ایپلیکشن ڈاون لوڈ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق زین شاہد کی پیدائش سعودی عرب اور بلال رند کی پیدائش کراچی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلال دبئی میں ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے ہیں جبکہ زین شاہد نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔
ایس ایس پی انسداد دہشت گردی راجہ عمر خطاب کے مطابق دونوں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں رکھا جائےگا۔
خیال رہے کہ اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزمان بھی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے خواہشمند تھے۔







