ایک اور عید، لاپتہ افراد کے لیے ایک اور احتجاج

،تصویر کا ذریعہother
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے حسبِ روایت عید کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
یہ مظاہرہ جمعے کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے کیا گیا جس میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے شرکت کی۔
لاپتہ افراد کے رشتہ دار گزشتہ کئی سال سے عید کے روز احتجاج کرتے آئے ہیں۔
مظاہرے میں لاپتہ ہونے والے بلوچ سفر خان مری کی تین رشتہ دار خواتین بھی شریک تھیں اس موقع پر ان کی بیٹی بی بی حاجر ہ کا کہنا تھا کہ ان کے والد کی گمشدگی کو 8 سال کا عرصہ مکمل ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’والد کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے ہم یتیموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہماری تعلیم ختم اور سب کچھ برباد ہوگیا ہے۔‘
مظاہرے میں شریک ایک اور بچے محمد حیربیار کا کہنا تھا بہت سارے بلوچ لاپتہ ہیں اس لیے وہ مظاہرے میں شرکت کے لیے آئے ہیں اور ’ہم بلوچ سادگی سے عید منا رہے ہیں۔‘
وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔
انھوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث وہ عید پر بھی احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارلیمانی سیاست کرنے والی قوم پرست جماعتوں کی قیادت میں قائم بلوچستان کی موجودہ حکومت نے لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا۔
ماما قدیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور پہلے کی طرح آپریشنوں اور لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔







