سوات: پاکستان ایئر فورس کے سابق اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, سوات
خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم افراد کے حملے میں پاکستان فضائیہ کے ایک سابق اہلکار ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ کل رات تحصیل چار باغ کے علاقے دکوڑک میں پیش آیا جب نامعلوم افراد نے پاکستان ایئر فورس کے سابق چیف ٹیکنیشن احسان اللہ کو گھر جاتے ہوئے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ انھیں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے واقعے کی ایف ائی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے احسان اللہ کے دو بھائی پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ بیٹا کاشف بھی پولیس حوالدار ہے۔ تاہم ان کا ایک بیٹا عارف اللہ دہشت گرد کمانڈر تھا جو سوات میں فوجی آپریشن کے دوران روپوش ہوگیا تھا۔
ہلاک ہونے والے ایئر فورس کے اہلکاراحسان اللہ کے بھائی پولیس انسپکٹر امجد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ احسان اللہ نے سوات میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر روسخ کے دنوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کا بھر پور ساتھ دیا تھا اور اب وہ دکوڑک گاؤں میں الیکٹرانکس کی دوکان کے مالک تھے۔
خیال رہے کہ جمعے کے روز پشاور کے قریب بڈھ بیر کے مقام پر پاکستان ایئر فورس کے کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں 14 حملہ آوروں کے علاوہ 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشر کا تعلق پاکستان فضائیہ سے تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔
ایئر فورس کیمپ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں میں پانچ کی شناخت کی گئی تھی جن میں دو کا تعلق سوات سے تھا۔
خیال رہے کہ سوات میں گذشتہ روز امن کمیٹی کے ایک رکن کو بھی ننگولئی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔ سوات میں پے درپے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے باعث مقامی لوگ خوف کا شکار ہیں۔



