بڈھ بیر کیمپ حملہ، ’دستاویزی ثبوت افغانستان کے حوالے کیے جائیں گے‘

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی اعلیٰ ترین سول اور فوجی قیادت نے پشاور میں پاکستانی فضائیہ کے کیمپ پر گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بارے میں ان شواہد کا جائزہ لیا ہے جو افغان حکومت کے حوالے کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے بارے میں پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں بہت سے شواہد پیش کیے گئے جن میں ان شواہد کو علیحدہ کیا گیا جو افغان حکام کے حوالے کیے جائیں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ دستاویزی ثبوت لے کر پاکستانی حکام بہت جلد کابل جائیں گے۔
<link type="page"><caption> ’حملے کا منصوبہ افغانستان میں بنا اور وہیں سے کنٹرول ہوا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150918_ispr_bajwa_presser_badhbir_attack_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پشاور حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا دعویٰ مسترد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150919_afghan_react_pwr_attack-ua.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پانچ ’پاکستانی‘ حملہ آوروں کی تصاویر جاری</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150920_peshawar_attackers_as.shtml" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، فوج کی ملٹری آپریشنز برانچ کے سربراہ میجر جنرل عامر ریاض، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل ندیم ذکی کے علاوہ دفاعی امور کے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور خزانہ کے وفاقی وزیر اسحٰق ڈار نے شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق اس اجلاس میں افغانستان کو اس حملے کے بارے میں شواہد کی فراہمی کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے تجاویز پر بھی بات کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کے روز پشاور کے قریب بڈھ بیر کے مقام پر پاکستانی فضائیہ کے کیمپ پر حملے میں 14 حملہ آوروں کے علاوہ 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستانی فضائیہ سے تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اسی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں ہوئی، لوگوں کی تربیت بھی وہیں ہوئی اور حملہ آور آئے بھی افغانستان سے تھے۔
بعد میں سرکاری حکام نے یہ بھی کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے حملہ آور پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے راستے پشاور میں داخل ہوئے۔
کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تاہم تحریک کے ترجمان محمد خراسانی نے پاکستانی فوج کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں شامل تمام افراد پاکستان ہی میں مقیم تھے اور یہیں سے اس حملے میں شریک ہوئے۔
پاکستان پچھلے سال پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کا الزام بھی افغانستان کے علاقے کنڑ میں روپوش تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ پر عائد کرتا رہا ہے اور اس حملے میں شامل افراد کو سہولیات فراہم کرنے پر بعض افراد کو فوجی عدالت سے سزائیں بھی دی جا چکی ہیں۔







