القاعدہ برصغیر کی معاونت کرنے والا تاجر گرفتار

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے القاعدہ برصغیر کی مالی معاونت کرنے کے الزام میں ایک تاجر کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کا کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں ملوث ملزمان کی ذہنی تربیت کی تھی۔
شعبہ انسدادِ دہشت گردی کے ایس ایس پی نوید خواجہ نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صفوراں واقعے میں گرفتار ملزمان سعد عزیز اور اظہر عشرت کے انکشافات کی روشنی میں شیبہ احمد کو شہر کے پوش علاقے ڈیفینس سے گرفتار کیا گیا ہے۔
رواں سال مئی میں اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کے نتیجے میں خواتین سمیت 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے، پولیس نے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں طاہر حسین منہاس عرف سائیں عرف نذیر عرف زاہد، سعد عزیز عرف ٹن ٹن عرف جون، محمد اظہر عشرت عرف ماجد اور حافظ ناصر حسین عرف یاسر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کا تعلق داعش یا دولت اسلامیہ سے ظاہر کیا تھا۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی خواجہ نوید نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار ملزم شیبہ احمد بینکار اور تاجر ہے اور اپنا تعلق تنظیم اسلامی سے ظاہر کرتا ہے۔’ملزم پاکستان اور پڑوسی اسلامی ممالک میں کیمیکل کا کاروبار کرتا ہے اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت میں استعمال کی جاتی تھی۔‘
ایس ایس پی نوید خواجہ نے بتایا کہ ملزم کا ڈیفینس میں ایک لیکچر سینٹر قائم تھا جہاں وہ درس بھی دیتا تھا، صفوراں واقعے میں گرفتار سعد عزیز اور دیگر ملزمان اس میں شریک ہوتے رہے ہیں ملزم نے ان کی ذہنی تربیت کے علاوہ مکمل مالی معاونت کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کراچی سے باہر بھی دہشت گردوں کی معاونت کرتا رہا ہے، سی ٹی ڈی نے ایک ہپستال میں چھاپہ مارا تھا جہاں سے گرفتار ملزم حسن ظہیر نے انکشاف کیا تھا کہ شبیہ احمد نے لاہور میں زخمی دہشت گردوں کے علاج کے لیے ایک ہسپتال کی مالی معاونت کی تھی۔
دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتار فشرمین کوآپریٹو سوسائیٹی کے وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی اور ان کے بھائی حسین قمر سمیت 3 ملزمان کو جسمانی رمانڈ پر 30 ستمبر تک پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ فشرمین کوآپریٹو سوسائیٹی کے وائس چیئرمین سلطان قمر کو رینجرز نے 90 روز کے لیے حراست میں رکھا تھا۔







