ہنزہ میں ’پاک چین دوستی سرنگ‘ کا افتتاح

عطا آباد جھیل پر شاہراہ قراقرم کی بحالی کے اس منصوبے کو 3 سال 2 ماہ کے عرصے میں مکمل کیاگیا ہے

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنعطا آباد جھیل پر شاہراہ قراقرم کی بحالی کے اس منصوبے کو 3 سال 2 ماہ کے عرصے میں مکمل کیاگیا ہے

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کو چینی کمپنی کے اشتراک سے گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں عطا آباد جھیل پر شاہراہ قراقرم کی بحالی کے لیے تعمیر کی گئی سرنگ کا افتتاح کیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ سرنگ شاہراہ کے ان حصوں کی بحالی کیلئے تعمیر کی گئی ہے جو جنوری سنہ 2010 میں مٹی کا تودہ گرنے سے مہندم ہوگئے تھے۔

24 کلومیٹر طویل اس نئی شاہراہ پر سات کلومیٹر طویل پانچ سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس شاہراہ پر دو بڑے اور78 چھوٹے پل تعمیر کیے گئے ہیں۔

پانچ سرنگوں پر مشتمل اس منصوبے کو ’پاکستان، چین دوستی سرنگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

عطا آباد جھیل پر شاہراہ قراقرم کی بحالی کے اس منصوبے کو 3 سال 2 ماہ کے عرصے میں مکمل کیاگیا ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف چین کے ساتھ تجارت کو فروغ ملےگا بلکہ علاقے کے ہزاروں لوگوں کو بھی سہولت ملےگی۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے وزیراعظم نواز شریف کو عطا آباد سرنگ کے منصوبے سے متعلق بریفنگ دی

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشننیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے وزیراعظم نواز شریف کو عطا آباد سرنگ کے منصوبے سے متعلق بریفنگ دی

نواز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے شمار مواقع ہیں جنھیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس سال علاقے میں ہزاروں سیاحوں کے آنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے یقین دلایا ہے کہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

پیر کو گلگت میں قانون ساز اسمبلی کے ارکان اور وزرا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے علاقے کے لوگوں کی تقدیر بدل جائے گی۔

انھوں نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنائے۔

واضح رہے کہ چار جنوری سنہ 2010 کو ہنزہ تحصیل کےگاؤں عطا آباد سے گزرنے والے دریائے ہنزہ میں ’مٹی کا تودہ’ گرنے کے باعث دریائے ہنزہ میں پانی کا بہاؤ رک گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک جھیل معرضِ وجود میں آئی تھی۔