عطاآباد میں جھیل کیسے بنی

- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ہنزہ
چار جنوری کو ہنزہ تحصیل کے گاؤں عطا آباد سے گزرنے والے دریائے ہنزہ میں ’مٹی کا تودہ’ گرنے کے باعث دریائے ہنزہ میں پانی کا بہاؤ رک گیا جس کے نتیجے میں ایک جھیل معرضِ وجود میں آگئی۔
تودے نما پہاڑ دریا میں گرنے اور جھیل بننے کا یہ واقعہ یوں پیش آیا کہ سنہ دو ہزار دو میں استور میں زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں عطا آباد کی پہاڑی میں شگاف پڑ گئے۔
عطاآباد تحصیل ہنزہ کا آخری گاؤں ہے جس کے دو حصے ہیں، ایک ’عطا آباد بالا ‘اور دوسرا ’عطا آباد پائن‘ ہے جسے سرکٹ بھی کہتے ہیں۔
سنہ دو ہزار دو کے بعد سے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’فوکس پاکستان انٹرنیشنل‘ نے کئی بار اس جگہ کا معائینہ کیا۔
سنہ دو ہزار نو کے وسط میں عطا آباد بالا کے رہائشیوں نے حکومت پاکستان اور فوکس پاکستان سے دوبارہ کہا کہ پہاڑ سرک رہا ہے اور شگاف بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔
عطا آباد بالا کے ایک رہائشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’سنہ دو ہزار نو میں پوزیشن یہ ہو گئی تھی کہ کھیتوں کو پانی دو تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ پانی کہاں گیا۔ ہماری زمین ناہموار ہو گئی تھی۔‘
ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ زمین ’ناہموار‘ سے کیا مراد ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کا کھیت ایک جگہ سے اوپر ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ کا حصہ نیچے ہو گیا۔ ’کئی جگہوں پر تو ایسے تھا جیسے سیڑھیاں بنی ہوں۔‘
یہ مصنوعی جھیل عطا آباد بالا کے قریب بنی تھی جوقدرے اونچائی پر ہے، جبکہ عطا آباد پائن نیچے کی جانب ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

عطا آباد بالا کے پہاڑوں پر جب دراڑیں بہت واضح ہو گئیں تو حکومت نے اس گاؤں کے رہائشیوں کو دسمبر دو ہزار نو کے شروع میں جھیل والے حصے کو شدید خطرناک قرار دے کر وہاں کے رہائشیوں کو دوسری جانب منتقل ہونے کو کہا تاہم حکومت نے عطا آباد پائن کو محفوظ قرار دے دیا۔
عطا آباد بالا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ چٹانیں سرکنے کا عمل جاری رہا اور دراڑیں مزید گہری اور بڑی ہوتی گئیں۔
چار جنوری کو عطا آباد بالا کے دائیں ہاتھ پر پہاڑ کا پورا حصہ سرکا نہیں بلکہ سیدھا دریائے ہنزہ میں آ گرا۔ عطا آباد کے سامنے سے دریائے ہنزہ کی چوڑائی کم ہے۔ پہاڑ جب نیچے دریا میں گرا تو اس کا ملبہ زمین سے ٹکرانے کے بعد دوبارہ ہوا میں اچھلا اور یہ ملبہ عطا آباد پائن پر جا گرا جو عطا آباد بالا سے درے نیچا تھا اور اس عمل کے نتیجے میں وہاں انیس ہلاکتیں ہوئیں۔ عطا آباد پائن وہی گاؤں ہے جس کو حکومت نے محفوظ قرار دیا تھا تاہم اب جھیل بن جانے کے بعد اب عطا آباد بالا اور عطاآباد پائن دونوں ایک ہوچکے ہیں۔
پہاڑ گرنے اور ملبے کا زمین پرگر کر اچھلنے کو گلگت بلتستان کی انتظامیہ ’سپلیش‘ کا نام دیتے ہیں۔







