الطاف حسین کی تقاریر پر اخبارات میں بھی پابندی

عدالت نے وزارت داخلہ کے حکام سے الطاف حسین کی شہریت سے متعلق بھی وضاحت طلب کر لی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدالت نے وزارت داخلہ کے حکام سے الطاف حسین کی شہریت سے متعلق بھی وضاحت طلب کر لی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقاریر، بیانات، مصروفیات اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر تاحکم ثانی مکمل پابندی عائد کرے اور اس ضمن میں ایک جامع نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

عدالت نے پیمرا سے کہا کہ اخبارات میں بھی الطاف حسین کی تقاریر کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی جائے۔

عدالت نے وزارت داخلہ کے حکام سے الطاف حسین کی شہریت سے متعلق بھی وضاحت طلب کر لی ہے۔

جسٹس مظاہر علی نقوی کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے تین مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔

پیمرا کے حکام نے ان درخواستوں کی گذشتہ سماعت کے دوران عدالتی حکم کی روشنی میں جاری کردہ نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایک عمومی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں الطاف حسین کی تقریروں پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ نوٹیفیکیشن عدالتی حکم سے مطابقت نہیں رکھتا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس نوٹیفیکیشن پر عدالتی حکم کے مطابق عمل کیا جائے جس پر پیمرا کے حکام نے عدالت کو اس ضمن میں نیا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔

پیمرا کے حکام کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد کی تقاریر اور تصاویر پر پابندی الیکٹرانک میڈیا پر تو لگانے کا اختیار رکھتے ہیں لیکن پرنٹ میڈیا پر اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جس پر عدالت نے اُنھیں اخبارات میں بھی ان کی تقاریر کی اشاعت پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں کہا۔

عدالت نے الطاف حسین کی شہریت سے متعلق وزارتِ داخلہ سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر الطاف حسین پاکستانی ہیں تو پھر ایسی تقاریر کے بارے میں کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

عدالت نے اس ضمن میں وزارت داخلہ کے حکام کو بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے لگائی گئی پابندی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ آفتاب ورک کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی پاکستانی فوج کے خلاف تقاریر غداری کے زمرے میں آتی ہیں لہٰذا اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔

ایک اور درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دیتے ہیں لہذا اُن کی لائیو تقاریر کر مکمل پابندی عائد کی جائے۔