سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قراردادیں

،تصویر کا ذریعہREX FEATURES
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرار دادیں منظور کی گئی ہیں۔
یہ قراردادیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی جانب سے پیش کی گئی تھیں اور حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان کی حمایت کی۔
جمعے کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے آغاز میں ہی ایجنڈے سے ہٹ کر تحریک انصاف کی جانب سے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی گئی، جس پر متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔
تحریک انصاف کے رکن ثمر علی خان، مسلم لیگ ن کے رکن شفیع جاموٹ اور مسلم لیگ فنکشنل کے نند کمار نے الگ الگ قراردادیں پیش کیں، جن میں کہا گیا کہ یہ ایوان الطاف حسین کی جانب سے غیر ملکی اداروں اور ممالک کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مطالبے کی مذمت کرتا ہے اور ان کا پاکستان فوج اور رینجرز کے خلاف بیان بھی قابل مذمت ہے۔
قرارداد میں سندھ کی تقسیم کے بیان بھی قابل مذمت کی گئی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے۔
ایوان نے بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کر لی اور اس موقعے پر متحدہ قومی موومنٹ ایوان میں اکیلی رہ گئی۔
حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت باقی تمام جماعتوں نے ان قراردادوں کی حمایت کی۔ یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ فنکشنل مختلف ادوار میں ایم کیو ایم کی اتحادی رہی ہیں۔
اجلاس کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑو کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں کوئی بھی مہاجر نہیں رہا۔ ’ہم کسی کو اردو بولنے والا یا کوئی اور زبان کے حوالے تو شناخت کر سکتے ہیں لیکن سب سندھ کے باسی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سندھ کے لیے کہا جائے کہ یہاں بیرونی فوجیں آئیں اور بیرونی ادارے آ کر ان کی مدد کریں تو اس کو ہم اپنے ملک کی سالمیت پر وار سمجھتے ہیں۔ جس کو نہ کبھی پہلے برداشت کیا ہے اور نہ کبھی اب کیا جائے گا۔‘
نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ پہلے تو الطاف حسین نے اپنا الفاظ واپس لے لیے تھے لیکن اس بار تو انھوں نہ اس کو قبول کیا اس کے بعد خط تک لکھے جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا اور اسی لیے انھوں اس قرارداد کی حمایت کی ہے۔
تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ رکن صوبائی اسمبلی ثمر علی خان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد اس لیے بھی ضروری تھی کیونکہ باقی صوبوں سے منظور ہو چکی ہے اور اب سندھ پیچھے نہیں رہا۔
’الطاف حسین نے جو الفاظ استعمال کیے وہ پاکستان مخالف ہیں۔ وہ نہ صرف دیگر ممالک کو کہہ رہے ہیں کہ مداخلت کریں، ہماری رینجرز اور فوج ایک ساتھ ہو کر مذمت کی اور یہ ایک تاریخی دن ہے۔ پوری اسمبلی ایک ساتھ کھڑی ہوگئی ہے۔‘
اس موقعے پر متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ آج وہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں تو انھیں تماشہ بنایا جا رہا ہے اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جا رہے ہیں اور وہ دوبارہ ثابت کریں گے وہ محب وطن ہیں۔
یاد رہے کہ الطاف حسین نے حال ہی میں امریکہ کے شہر ڈیلس میں ایم کیو ایم کے سالانہ کنونشن سے ٹیلی فون پر خطاب میں کارکنوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ بین الاقوامی اداروں سے کہیں کہ کراچی میں اقوام متحدہ یا نیٹو کی افواج بھیجیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے قتل عام کیا اورکون کون اس کاذمہ دار تھا۔
ان کی اس تقریر کے بعد پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہالطاف حسین کی تقاریر کا معاملہ برطانیہ کے حکام کے ساتھ قانونی طور پر اُٹھایا جائے گا۔








