’پاکستانی عیسائیوں کی امید کی نئی علامت‘

’صلیب کی تعمیر کا مقصد پاکستان کے عیسائیوں کو لاحق ان خطرات اور مایوسی سے مقابلہ کرنا ہے ‘
،تصویر کا کیپشن’صلیب کی تعمیر کا مقصد پاکستان کے عیسائیوں کو لاحق ان خطرات اور مایوسی سے مقابلہ کرنا ہے ‘
    • مصنف, شا ہ زیب جیلانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

پاکستان کے شہر کراچی میں گذشتہ تقریباً ایک برس سے میں دفتر جاتے ہوئے راستے میں ایک غیر معمولی طور پر لمبی عمارت کھڑی ہوتے دیکھتا تھا۔

شروع میں وہ ایک بڑے ستون سے ملتی جلتی کوئی چیز لگی جس میں منوں ٹنوں کے حساب سے لوہے، سٹیل اور سیمنٹ کا استعمال کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس ستون نے ایک دیو ہیکل صلیب کی شکل اختیار کر لی۔

یہ زیرِ تعمیر صلیب کراچی کے گورا قبرستان کے اندر کھڑی ہوئی ہے جو کہ اس شہر کا سب سے قدیم اور بڑا قبرستان ہے۔

پچھلے کچھ برسوں سے قبرستان کے اطراف میں غیر قانونی بستیوں کی وجہ سے قبرستان کی زمین کم پڑ گئی ہے۔ کچھ لوگ اسے اپنا کچرا پھینکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہاں پر صلیب کے نشان کے ساتھ موجود قبریں اور مذہبی مجسمے اکثر مسمار کر دیے جاتے ہیں۔

یہ صلیب اس خطے کی بلند ترین صلیبوں میں سے ایک ہے جس کی لمبائی 140 فٹ ہے۔ اس کی تعمیر کے لیے مالی امداد ایک پاکستانی عیسائی تاجر پرویز ہنری گل نے کی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ عمارت ’امن اور امید کی علامت ہے۔‘

’اس صلیب کی تعمیر کا مقصد پاکستان کے عیسائیوں کو لاحق ان خطرات اور مایوسی سے مقابلہ کرنا ہے جن کا وہ حالیہ کئی برسوں سے شکار ہیں۔‘

مسیحی برادری کی بیرون ملک منتقلی سے متعلق کوئی قابل اعتماد اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں، لیکن سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالات کے پیش نظر بہت سے عیسائی ملک چھوڑ کر کینیڈا اور آسٹریلیا منتقل ہو گئے ہیں۔ ملک میں موجود کئی باہر جانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

19 کروڑ آبادی کے مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں عیسائی ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں۔ ان کی صحیح تعداد کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ ملک کی آخری مردم شماری کے مطابق یہ کل آبادی کا 1.5 فیصد تھے، لیکن عیسائی رہنما کا اصرار ہے کہ ان کی تعداد کل آبادی کا 5.5 فیصد کے قریب ہے۔

پاکستانی عیسائی کون ہیں؟

پچھلے سال نومبر میں قصور میں ایک مشتعل گروہ نے عیسائی میاں بیوی کو زندہ جلا دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپچھلے سال نومبر میں قصور میں ایک مشتعل گروہ نے عیسائی میاں بیوی کو زندہ جلا دیا تھا

ان میں سے زیادہ تر تعداد ان کی ہے جو برطانوی راج کے دور میں ہندو سے مسلمان ہو گئے تھے۔

ان میں سے زیادہ تر نے ہندو معاشرے میں اپنی نچلی ذات کی حیثیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مذہب تبدیل کیا تھا۔ ان میں سے آج بھی زیادہ تر پاکستان کی غریب ترین آبادی کا حصہ ہیں۔

پاکستان میں عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے جذبات توہین رسالت کے سخت قوانین اور افغانستان میں امریکی جنگ کے بعد بھڑکنا شروع ہوئے۔

حملے اور تعصب

ملک کے توہین رسالت کے قانون پر کسی بھی قسم کی تنقید کرنا ناقابل برداشت سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنملک کے توہین رسالت کے قانون پر کسی بھی قسم کی تنقید کرنا ناقابل برداشت سمجھا جاتا ہے

عیسائی برادری پر شدت پسند حملے کا ایک بڑا واقعہ ستمبر 2013 میں رونما ہوا جب صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ایک گرجا گھر پر بم حملہ کیا گیا جس میں کم از کم 180 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس انسانیت سوز حملے نے ملک کی عیسائی اقلیت میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی۔

اسی سال مارچ میں خود کش حملہ آوروں نے ایک بار پھر گرجا گھروں کو نشانہ بنایا۔ اس دفعہ ان کا ہدف پنجاب کا شہر لاہور تھا جہاں ان حملوں کے نتیجے میں 15 لوگ ہلاک ہو گئے۔

اس قدر بڑے پیمانے پر عیسائیوں کے قتل نے ان میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے۔ لیکن اس امتیازی سلوک اور ہراس کا وہ ہر روز شکار ہوتے ہیں، اکثر توہین رسالت کے نام پر۔ ان واقعات کی وجہ سے بہت سے عیسائی دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پچھلے سال نومبر میں پنجاب کے ضلع قصور میں ایک مشتعل گروہ کی جانب سے عیسائی میاں بیوی کا بہیمانہ قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ توہینِ رسالت کا صرف الزام ہی کسی کو قتل کرنے کے لیے کافی ہے۔

دونوں مقتول اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتے تھے جن کو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں زدوکوب کیا گیا ور پھر زندہ جلا دیا گیا۔ پولیس بھی اس موقعے پر بے بس نظر آئی۔ اس واقعات کے دس ماہ گزرنے کے بعد 106 افراد گرفتار کیے گئے ہیں لیکن ان میں سے 32 مشتبہ افراد ابھی بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔

بحث کی گنجائش نہیں

پاکستان میں عیسائی برادری متعدد بار حملوں کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں عیسائی برادری متعدد بار حملوں کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پولیس اور عدالتی نظام عام طور پر عوام کو انصاف دلوانے میں ناکام رہے ہیں، لیکن مذہبی اقلیتیں اس کا بدترین شکار ہیں۔

آسیہ بی بی کے انتہائی متنازع کیس کو لے لیجیئے، جس میں ایک عیسائی عورت، جو چار بچوں ماں ہے، توہینِ رسالت کے جرم میں جیل میں قید ہے اور جس کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

آسیہ نے ہمیشہ ان الزامات سے انکار کیا ہے، لیکن ان کو عدالت عالیہ میں اپنی اپیل کی شنوائی کے لیے چھ سال انتظار کرنا پڑا۔ پچھلے ماہ عدالت نے ان کی سزائے موت کو وقتی طور پر معطل کر دیا تھا، لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ آخری فیصلہ آنے تک ان کو ابھی اور کتنے عرصے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑے گا۔

ملک کے توہین رسالت کے قانون پر کسی بھی قسم کی تنقید کرنا ناقابل برداشت سمجھا جاتا ہے اور تنقید کرنے والے کی زندگی کو ممکنہ طور پر خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

2011 میں پاکستان کے دو سیاستدان، جن میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور عیسائی وزیر شہباز بھٹی شامل تھے، اس قانون کے خلاف آواز اٹھانے پر موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ ان کے قتل نے اس موضوع پر کسی بھی قسم کی بحث کو خاموش کرا دیا ہے، کیونکہ موجودہ حکومت ملک سے مذہبی انتہا پسندی ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں ہے

پشاور کے بعد لاہور میں چرچ پر خودکش حملہ کیا گیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپشاور کے بعد لاہور میں چرچ پر خودکش حملہ کیا گیا

عیسائی رہنماؤں نے 1947 میں برصغیر کی تقسیم کی وقت وہاں کی عیسائی آبادی کو پاکستان کے حق میں ووٹ دینے پر راضی کرنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا۔

قیام پاکستان کے بعد ابتدائی دنوں میں ملک کے قومی دھارے میں عیسائیوں نے گرانقدر خدمات انجام دیں۔

مثال کے طور پر پاکستان کی عدالت عالیہ کے ابتدائی دور کے اعلیٰ ججوں میں سے ایک انتہائی معزز عیسائی جسٹس اے آر کورنیلیئس تھے۔

پاکستان کے سب سے پہلے انگریزی اخبار ڈان کے مدیر اعلیٰ پوتھن جوزف بھی عیسائی تھے، جنھیں بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے مقرر کیا تھا۔

عیسائی آبادی پاکستان کی سماجی ترقی میں ہمیشہ سے اہم کردار اد ا کرتی آئی ہے خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبے میں۔

میں بپچن میں اپنی والدہ سے دیہی سندھ کے شہر خیرپور میں ان کے کانونٹ سکول کی کہانیاں سنا کرتا تھا جہاں انھوں نے 1950 کی دہائی میں تعلیم حاصل کی۔ میری پیدائش کے وقت بھی ان کا اصرار تھا کہ انھیں سکھر شہر کے قریب مشنری ہسپتال لے جایا جائے کیونکہ انھیں ’وہاں کی عیسائی نرسوں کی پیشہ ورانہ کام پر پورا اعتماد تھا۔‘

زیادہ تر پاکستانیوں کا خیال ہےکہ عیسائیوں کے خلاف رویے میں تبدیلی 1970 کی دہائی میں دیکھنے میں آئی جب سخت گیر اسلامی تنظیموں نے اپنے تنگ نظر ایجنڈے کا پرچار شروع کیا۔

اور جب 1980 میں ملک جنرل ضیا الحق کی آمریت کے تسلط میں آگیا، تو انھوں نے اسلام کے نام پر ملک میں مزید سخت گیر قوانین متعارف کرائے۔

اور آج جبکہ ضیاالحق کو گزرے بھی ایک طویل عرصے ہو چکا ہے، ان کے سعودی عرب سے متاثر اسلام کی شکل نے پاکستان کو ایک روادار اور لبرل ملک سے ایک قدامت پسند معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مذہبی اور تہذیبی ہم آہنگی کے لیے گنجائش کم ہو گئی ہے۔