سوزن رائس کی وزیر اعظم سے ملاقات، خطے کی سکیورٹی پر بات

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے بات چیت ہوئی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے بات چیت ہوئی

امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے اتوار کو وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

اس ملاقات میں سوزن رائس کے ہمراہ پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن اور قومی سلامتی کے ڈائریکٹر تھے۔

اس ملاقات میں وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کے علاوہ سیکریٹری خارجہ نے بھپی شرکت کی۔

<documentLink href="" document-type=""> پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے نشیب و فراز: خصوصی ضمیمہ</documentLink>

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ تمام شعبوں میں پاکستان کا بڑا شراکت دار ہے اور پاکستان امریکہ سے دو طرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن سے تعلقات اور شراکت داری خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اکتوبر میں دورہ امریکہ کا منتظر ہوں۔

دوسری جانب امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو سراہا، وزیر اعظم نواز شریف کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کی سوچ قابل قدر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت، دفاع، انسداد دہشت گردی اور توانائی میں دونوں ممالک تعاون کر رہے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس وزیراعظم نواز شریف، فوجی کے سربراہ راحیل شریف سے بھی ملاقات کریں گی۔

خیال رہے کہ امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس کی ایک ایسے وقت پر اسلام آباد آئی ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کی مشیر نے پاکستان آنے سے قبل چین کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے چینی صدر کے دورہ امریکہ سے قبل چینی حکام سے ملاقات کی۔

پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان اگست کے پہلے ہفتے ہونے والے مذاکرات بھی منسوخ ہو گئے تھے۔ امریکہ نے مذاکرات کی منسوخی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ جلد باقاعدہ مذاکرات بحال کریں۔

اس کے علاوہ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور رواں ماہ افغان صدر اشرف غنی نے ملک میں تشدد کی حالیہ لہر پر پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں امن کی امید تھی لیکن پاکستان سے کابل کو جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے تعاون پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔

امریکی قومی سلامتی کی مشیر کی پاکستان آمد پر رواں سال اکتوبر میں وزیراعظم نواز شریف کے امریکہ کے متوقع دورے کی تفصیلات پر بھی غور کیا جائے گا۔