پاکستان کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھارت سے احتجاج

پاکستان کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے

پاکستان نے گذشتہ دو دنوں کے دوران کوٹلی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر بھارت سے احتجاج کیا ہے۔

پیر کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایل او سی‘ پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے وقعات 15 اور 16 اگست کو پیش آئے تھے۔

دفتر خارجہ کے مطابق جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزی کے نتیجے میں تین عام شہری ہلاک جبکہ 15 شہری زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں 55 سالہ شفیع خان، 56 سالہ شاہ پل خان اور سارہ خاتون شامل ہیں۔

دفترِ خارجہ کے مطابق بھارتی نائب ڈپٹی ہائی کمشنر کو ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء و سارک نے دفتر خارجہ میں طلب کر کے بھارتی فوجیوں کی جانب سے کوٹلی کے مقام پر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرائے اور اس کے نتائج سے پاکستان کو بھی آگاہ کیا جائے۔

بیان کے مطابق بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو جنگ بندی کا احترام کرنے کی ہدایت کرے اور ایل او سی پر امن کو برقرار رکھے۔

دفتر خارجہ کے مطابق جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزی کے نتیجے میں تین عام شہری ہلاک جبکہ 15 شہری زخمی ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندفتر خارجہ کے مطابق جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزی کے نتیجے میں تین عام شہری ہلاک جبکہ 15 شہری زخمی ہوئے تھے

خیال رہے کہ فائرنگ کے یہ تازہ واقعات بھارت کے 69ویں یومِ آزادی کے موقع پر پیش آئے تھے جبکہ پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کی جانب سے بھی بھارت پر بلااشتعال فائرنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں اور ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فائر بندی کے سنہ 2003 کے سمجھوتے پر عمل کیا جائے۔

سیز فائر کی خلاف ورزی کے یہ واقعات ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر 23 اگست کو نئی دہلی میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

بھارت میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے اور حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روس میں ایک دوسرے سے ملاقات کی اور بات چیت دوبارہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔