ایک ماہ میں پانچویں پاکستانی کی ہلاکت پر بھارت سے احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت پر بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق ’ایل او سی‘ پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا یہ واقعہ آٹھ اگست کی شب پیش آیا تھا اور ضلع کوٹلی کا گاؤں ندھیری اس بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنا تھا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس فائرنگ سے 28 سالہ خاتون فریدہ شدید زخمی ہوئی تھیں جو منگل کو زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں بھارتی نائب ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور ان سے سرکاری طور پر احتجاج کیا گیا ہے۔
دفترِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستانی حکام نے نو اگست کو لائن آف کنٹرول کے نکیال سیکٹر میں کوٹلی اور بھمبر گلی کے نزدیک بھارتی فوج کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی اور پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنائے جانے پر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا۔
بیان کے مطابق صرف ڈیڑھ ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی 60 سے زیادہ مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج نے جولائی کے مہینے میں 37 اور اگست میں اب تک 24 مرتبہ یہ خلاف ورزیاں کی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں تشویش ناک ہیں اور ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فائر بندی کے سنہ 2003 کے سمجھوتے پر عمل کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ ایک ماہ کے دوران ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ سے اب تک پانچ پاکستانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
فرخندہ کی ہلاکت سے قبل جولائی کے وسط میں ورکنگ باؤنڈری پر چپرار سیکٹر میں تین اور لائن آف کنٹرول کے نزدیک نیزہ پیر کے مقام پر ایک خاتون فائرنگ کا نشانہ بنی تھی۔
اس کے علاوہ گذشتہ ماہ ہی پاکستانی فوج نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایل او سی کے قریب بھمبھر کے مقام پر مبینہ طور پر جاسوسی کرنے والا بھارتی ڈورن مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔







