’گوادر ایکسپریس وے اور ایئرپورٹ پر کام جلد شروع ہوگا‘
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوادر
گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے کہا ہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں گوادر میں آئندہ چند ماہ میں تین بڑے منصوبوں پر کام شروع ہو رہا ہے۔
بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ مشرقی ساحل کے ساتھ ایکسپریس وے کے منصوبے کے فنڈز مختص ہوگئے ہیں اور اکتوبر تک اس پر کام شروع ہوجائے گا جبکہ گوادر میں ایک بڑے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کے منصوبے پر بھی اکتوبر میں ہی کام شروع کر دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ گوادر میں فری ٹریڈ زون کے قیام کے سلسلے میں بھی زمین حاصل کر لی گئی ہے۔’چینی کمپنی نے اس کی ماسٹر پلاننگ بھی تقریباً مکمل کرلی ہے اور اس کی مارکیٹنگ بھی اسی سال شروع کردی جائے گی۔‘
گوادر کی بندرگاہ دسمبر سنہ 2006 میں مکمل ہوئی تھی اور اس کا افتتاح مارچ سنہ 2007 میں اس وقت کے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا مگر گذشتہ آٹھ برسوں میں نہ تو بندرگاہ فعال ہوئی اور نہ ہی گوادر کی ترقی کا خواب پورا ہوسکا۔
دوستین جمالدینی نے کہا کہ اس کی بڑی وجوہ صوبے میں امن و امان کی مخصوص صورتحال اور بندرگاہ کا ملک کے باقی ماندہ علاقوں سے زمینی راستوں کے ذریعے پوری طرح سے رابطہ نہ ہونا تھیں۔
’ظاہر ہے سیاست معمول کی زندگی کا حصہ ہے۔ 2007 سے آپ دیکھیں تو بلوچستان میں سیاسی حالات مشکل ہوتے گئے۔ وہ پہلو بھی اپنی جگہ پر ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی عرصے میں پاکستانی معیشت میں ماضی میں جو بہتری آئی تھی وہ گرنا شروع ہوگئی تھی۔‘

انھوں نےبتایا کہ گوادر جیسے غیرترقی یافتہ علاقوں میں جب بھی بندرگاہیں بنتی ہیں تو انھیں فعال ہونے میں وقت لگتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں دوستین جمالدینی نے کہا کہ پچھلے آٹھ برسوں کے دوران سے اب تک 170 کے قریب مال بردار جہاز بندرگاہ پر آئے ہیں اور ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’اس سال تک ہم یہاں پر صرف اور صرف درآمدات وصول کرتے تھے اور حکومت پاکستان جب اناج، گندم یا یوریا وغیرہ درآمد کرتی ہے تو وہ زیادہ تر گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے آتی ہے مگر اب ہم نے برآمدات کا کام بھی شروع کردیا ہے۔‘

دوستین جمالدینی نے کہا کہ چونکہ گوادر کی اپنی معیشت بہت چھوٹی ہے اور ملک کی بڑی منڈیوں اور صنعتی علاقوں سے گوادر کی سڑکوں اور ریل کے ذریعے رابطہ ابھی تک مکمل نہیں ہے اس لیے بندرگاہ پر کاروبار اتنا زیادہ نہیں ہوسکا۔
مسٹر جمالدینی نے کہا کہ اگلے برس کے اوآخر تک گوادر کا ملک کے باقی علاقوں سے سڑکوں کے ذریعے رابطہ مزید بہتر ہوجائےگا تو اس کے بعد توقع ہے کہ بندرگاہ مزید بہتر طور پر کام کرسکے گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ گوادر کے ماسٹر پلان میں مقامی ماہی گیروں کو دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ جس جگہ بندرگاہ بنی ہے وہ ماہی گیروں کی زرخیز شکارگاہ تھی مگر ان کے بقول گوادر کے نواحی علاقوں پشوکان اور سُربندر میں دو جیٹیاں زیرتعمیر ہیں جہاں مچھلیوں کی پیداوار شاید اس سے بھی زیادہ ہو۔







