چین نے اقتصادی راہداری پر بھارتی تحفظات رد کر دیے ہیں: نواز شریف

تین ہزار کلومیٹر لمبی اقتصادی راہداری کا اعلان اپریل میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے دوران کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنتین ہزار کلومیٹر لمبی اقتصادی راہداری کا اعلان اپریل میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے دوران کیا گیا تھا

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بھارت کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان نے بھارت کے خطے میں اپنی حاکمیت قائم کرنے کے ارادوں کو آشکار کر دیا ہے۔

چین کے تعاون سے بننے والے اقتصادی راہداری منصوبے پر بھارت کے اعتراضات کو رد کرنے پر پاکستان کے وزیر اعظم نے چین کا شکریہ ادا کیا۔

میاں نواز شریف منگل کو بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صوبے کی امن و امان کی صورت کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

بلوچستان میں جاری بدامنی میں پاکستان کی حکومت بھارت کے خفیہ ادارے را کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

’ہمیں منظور نہیں ے‘

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پیر کو کہا تھا کہ بھارت اقتصادی راہداری کے اس منصوبے کے سخت خلاف ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پیر کو کہا تھا کہ بھارت اقتصادی راہداری کے اس منصوبے کے سخت خلاف ہے

یاد رہے کہ گذشتہ روز بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کے دورے کے دوران چینی حکام سے اپنی ملاقاتوں میں اقتصادی راہداری منصوبے پر بھارت کے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان کے وزارت خارجہ نے بھارت کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ منصوبہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اس منصوبے کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ صرف ان دو ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ اس منصوبے سے پورا خطہ فائدہ اٹھائے گا۔

خیال رہے کہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ بھارت کو اس اقتصادی راہداری کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے گزرنے پر شدید اعتراض ہے۔

’جب وزیر اعظم چین گئے تو انھوں نے اس بات کو بہت سختی سے کہا، اور کہا کہ یہ جو آپ نے اقتصادی راہداری کی بات کی ہے اور اس میں بھی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جانے کی بات کی ہے، وہ ہمیں منظور نہیں ہے۔‘

بھارت کی جانب سے اقتصادی راہداری منصوبے کی کھلم کھلا مخالفت سے قبل ہی پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ کچھ ملکی اور<link type="page"><caption> غیر ملکی عناصر پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150515_nawaz_warns_external_forces_zz.shtml" platform="highweb"/></link>۔

انھوں نے کہا تھا کہ اقتصادی راہداری پاکستان کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور یہ قوتیں پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں دیکھ سکتیں۔

تین ہزار کلومیٹر لمبی اقتصادی راہداری کا اعلان چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے دوران کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنتین ہزار کلومیٹر لمبی اقتصادی راہداری کا اعلان چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے دوران کیا گیا تھا

خیال رہے کہ تین ہزار کلومیٹر لمبی اقتصادی راہداری کا اعلان اپریل میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے دوران کیا گیا تھا۔

یہ منصوبہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ کو چین کے سنکیانگ خطےسے جوڑے گا اور اس کے تحت تقریباً 46 ارب ڈالر کی لاگت سے شاہراہوں، ریلوے، کارخانوں اور پائپ لائنوں کاایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کیا جائے گا۔

شی جن پنگ کے اس دورے کے دوران پاکستان اور چین نے 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جن میں سے 30 سے زائد منصوبے اقتصادی راہداری سے متعلق ہیں۔

اقتصادی راہداری چین کے لیے ایشیا کے مختلف ممالک سمیت مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک تک رسائی اور وہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک سستا راستہ ثابت ہو گا۔