’راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں‘

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ’پاکستان چین اقتصادی راہداری‘ منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے اور گوادر کو خضدار، کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی سڑک اگلے سال تک مکمل کر لی جائے گی۔
یہ بات انھوں نے چینی صدر کے دورہ پاکستان کے موقعے پر بی بی سی کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے کے بارے میں ایک انٹرویو میں کہی۔
45 ارب ڈالر مالیت کے اس راہداری منصوبے کی انچارج وزارت کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس اقتصادی راہداری منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کر کے اسے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے پہلے پنجاب سے گزارنے کا پروگرام بنایا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاجی عدیل نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف کی حکومت نے صوبہ پنجاب کو نوازنے کے لیے اقتصادی راہداری کے ڈیزائن میں تبدیلی کر کے پہلے پنجاب والے رستے کو مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
’یہ پنجاب کی حکومت ہے اور اسی صوبے کو نوازنا چاہتی ہے۔ ہمارے صوبے اور باقی صوبوں میں تو یہ اقلیتی جماعت ہیں۔ اسی لیے انھیں کسی دوسرے صوبے کی ترقی سے غرض نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی اب پنجاب ہی سے گزارا جا رہا ہے۔‘
احسن اقبال نے اس تاثر کی تردید کرتے کہا کہ اقتصادی راہداری کے اس حصے پر پہلے کام مکمل کیا جائے گا جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے گزرتا ہے۔
’گوادر کو خضدار سے ملانے والی سڑک پر تعمیر کے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ سڑک کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتی ہوئی شاہراہ قراقرم تک پہنچے گی۔ اور ہمارا ارادہ ہے کہ اس سڑک کو اگلے سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائے۔‘
احسن اقبال نے کہا کہ بعض لوگ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو صرف ایک سڑک سمجھ کر اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک فریم ورک ہے، یہ بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعہ ہے جس میں بجلی گھر، صنعتی زون، ثقافتی منصوبے اور حتیٰ کہ ٹیلی وژن اور ریڈیو اسٹیشن تک شامل ہیں۔‘
احسن اقبال نے کہا کہ گوادر پاکستان کے اندر اور باہر مختلف منڈیوں کے لیے ایک ماڈرن بندرگاہ کے طور پر کام کرے گی، اس لیے اسے ایک سے زیادہ راستوں کے ذریعے ملکی اور علاقائی منڈیوں سے جوڑا جائے گا۔
’مغربی روٹ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے گزرے گا، مرکزی روٹ سکھر اور انڈس ہائی وے کو قرا قرم ہائی وے سے جوڑے گا اور مشرقی روٹ اسلام آباد سے فیصل آباد اور ملتان موٹر وے کو سکھر کے راستے گوادر تک لے جائے گا۔‘
احسن اقبال نے کہا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ اس کے دو سال بعد مشرقی روٹ اور سب سے آخر میں مرکزی روٹ پر کام مکمل کیا جائے گا۔
صوبہ بلوچستان میں ہونے کے باعث گوادر کی بندرگاہ اور اس سے متعلق تمام منصوبوں میں بلوچوں کا اہم حصہ ہے۔ تاہم بلوچستان میں جاری مزاحمتی تحریک میں شامل عناصر اپنے صوبے میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے خلاف ہیں۔
یہ مزاحمت کار الزام لگاتے ہیں کہ مرکزی حکومت ان کے وسائل پر قبضہ کر کے انھیں محروم رکھنا چاہتی ہے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کہتے ہیں کہ جب تک بلوچوں تحفظات دور نہیں کیے جاتے، بلوچستان میں اس طرح کے میگا منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔

’یہ منصوبہ بہت زبردست ہے لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ بندرگاہ ہو یا سڑکوں کی تعمیر، ان ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ سب سے پہلے گوادر کے رہنے والوں اور پھر بلوچستان کے رہنے والوں کو پہنچنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بلوچستان کے لوگ اس منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے۔‘
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے یہ منصوبے ترتیب دیتے ہوئے اس پہلو کو خاص طور پر پیش نظر رکھا ہے۔
’ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اس راہداری سے وابستہ جتنے بھی ترقیاتی منصوبے ہیں، وہ تمام صوبوں میں پھیلے ہوئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہراہوں کی تعمیر ہو یا بجلی گھروں اور صنعتی زونز کا قیام، چھوٹے صوبوں کو فوقیت دی جا رہی ہے۔‘
پاکستان میں، خاص طور پر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ورکروں پر متعدد بار شدت پسندوں کی جانب سے حملے کیے جا چکے ہیں۔ اقتصادی ماہر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ہزاروں کلومیٹر پر پھیلی سڑکیں اس منصوبے کا اہم ترین جزو ہیں، اور ان پر کام کرنے والے ہزاروں چینی کارکنوں کو تحفظ کی ضمانت کے بغیر اس منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں ہو گی۔
’سڑکوں کی تعمیر اصل چیز ہے۔ اگر یہ سڑکیں تعمیر ہو جاتی ہیں تو پھر باقی ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر بھی ممکن ہو سکے گی۔ اگر یہ سڑکیں نہ بن سکیں تو اس راہداری منصوبے پر کوئی اور کام بھی نہیں ہو سکے گا۔‘
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے اس منصوبے پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی سکیورٹی فورس تشکیل دی ہے۔
اس کی تفصیل بتاتے احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کے حکم پر بننے والی اس خصوصی فورس کی تربیت فوج کی زیرنگرانی کی جا رہی ہے۔
’یہ خصوصی فورس رینجرز کی طرز پر کام کرے گی اور اس کا واحد مینڈیٹ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔‘







