’بلوچستان میں دہشت گردی میں بھارتی اور افغان خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے‘

سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل شیر افگن نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا ہاتھ ہے۔

ایف سی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور بلوچستان کے عوام نے سکیورٹی فورسز کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا ہے جس کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے حوالے سے سب سے زیادہ واقعات کوئٹہ شہر میں رونما ہو رہے تھے اور شدت پسندوں کا ہدف ہزارہ قبیلے کے لوگ تھے۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں جس سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں بڑی حد تک کمی ہوئی ہے۔

آئی جی ایف سی نے بتایا کہ رواں سال مارچ اور اپریل میں صوبے کے پسماندہ علاقے لورالائی میں تحریک طالبان سے وابستہ شدت پسند آئے تھے لیکن ان کے خلاف بھی موثر کارروائی کی گئی۔

’ان کے خلاف سو آپریشن کیے گئے جس کے باعث ان میں سے بعض لوگ مارے اور بعض پکڑے گئے جبکہ بعض دیگر علاقوں میں یا افغانستان چلے گئے۔‘

آئی جی ایف سی نے بتایا کہ جہاں تک مشرقی اور جنوبی علاقوں کا تعلق ہے، ان میں مختلف کالعدم تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ان تنظیموں میں کالعدم بی ایل اے، یوبی اے، بی آر اے، بی ایل ایف، لشکر بلوچستان اور بی آر جی وغیرہ شامل ہیں۔ان تنظیموں کے خلاف موثر کارروائیوں سے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو، سبی اور دیگر علاقوں میں گذشتہ چند ماہ کے دوران کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

آئی جی ایف سی نے بتایا کہ قلات ڈویژن پر امن ہوگیا ہے جبکہ پنجگور اور مکران کے علاقوں میں بھی بہتری آئی ہے۔

میجر جنرل شیر افگن کا کہنا تھا کہ آواران سمیت بعض دیگر علاقوں میں تھوڑا بہت مسئلہ ہے لیکن وہاں بھی حالات جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔