’یوحنا آبادگرجا گھروں پر حملے میں ملوث پانچ دہشت گرد گرفتار‘

رواں سال مارچ میں لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں پر خود کش حملوں کے نیتجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرواں سال مارچ میں لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں پر خود کش حملوں کے نیتجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے
    • مصنف, عدیل اکرم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کا کہنا ہے کہ یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں پر خودکش حملے میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ بات انھوں نے منگل کو لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

شجاع خانزادہ کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے پانچ دہشت گردوں کا تعلق تحریک طالبان، شہریار مسعود گروپ سے ہے جبکہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تین مفرور دہشت گرد افغانستان میں ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حسن پنجابی، اسرار الدین، وقاص، شیخ قانون اور عمران مسعود کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ قاری الیاس، خالد زمان اور تاج علی مفرور ہیں۔

اِس موقعے پر گرفتار شدہ دہشت گردوں کی تصاویر اور اقبالی بیان بھی میڈیا کے نمائندوں کو دکھائے گئے۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں پر خود کش حملوں کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ حراست میں لیے گے دہشت گردوں نے یوحنا آباد کے علاوہ دیگر کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی کی تھی اور اِن تمام کارروائیوں کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را اُن کو فنڈز فراہم کرتی تھی۔

وزیر داخلہ کے مطابق گرفتار افراد پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔

انھوں نے کہا کہ گرفتار افراد خودکش جیکٹیں اور دھماکہ خیز مواد بنانے کے ماہر تھے جس کی تربیت اُنھوں نے افغانستان میں حاصل کی تھی۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ یوحنا آباد حملے کی منصوبہ بندی رائے ونڈ تبلیغی جماعت کے مرکز میں کی گئی اور خودکش جیکٹیں لاہور کے علاقے امر سدھو میں تیار کی گئیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق گرفتار افراد پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے
،تصویر کا کیپشنوزیر داخلہ کے مطابق گرفتار افراد پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے

اُنھوں نے کہا کہ تبلیغی مرکز ایک مقدس مذہبی مقام ہے اور یہاں آنے جانے والوں کی مکمل سکیننگ نہیں ہوتی لیکن دہشت گردوں نے اِسے جائے ملاقات بنا لیا ہے، چنانچہ اب ِاس جگہ کی نگرانی سخت کر رہے ہیں۔

شجاع خانزادہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ اہم عمارتوں پر بھی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے دیگر واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں میں ملوث القاعدہ کے ایک اہم رکن عمر لطیف کو چند روز قبل صوبہ بلوچستان کے علاقے چاغی میں ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ اُس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمر لطیف دریائے چناب پر آرمی کیمپ پر حملہ میں بھی ملوث تھا جس میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک ہو گے تھے۔

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے سابق سربراہ ملک اسحاق کی ہلاکت سے متعلق ایک سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کسی بھی دہشت گرد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ اشتعال انگیز تقاریر کرنے، نفرت انگیز مواد چھاپنے اور تقسیم کرنے والے چار ہزار سے زائد ملزموں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔