فوجی عدالتوں کے بارے میں آج عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ متوقع

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کا سترہ رکنی بینچ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری سے متعلق اٹھارہویں آئینی ترمیم اور اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق دائر درخواستوں کا فیصلہ آج سنائے گا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے اس ضمن میں کاز لسٹ جاری کر دی گئی ہے جس میں اُن تمام ججز کے نام لکھے گئے ہیں جنھوں نے ان درخواستوں کی سماعت کی تھی۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سترہ رکنی بینچ ان درخواستوں پر فیصلہ سنائے گا۔ ان درخواستوں میں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی سے متعلق پارلیمنٹ کے کردار، آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اس سے متعلق پارلیمنٹ کو آئین سازی کے اختیار سے متعلق سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ آئین میں درج انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق بھی نکات اُٹھائے گئے ہیں۔
ان درخواستوں میں پارلیمنٹ کو آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کرنے کے اختیار کے علاوہ سپریم کورٹ کے ایسے آئینی معاملات میں مداخلت کرنے کے بارے میں بھی پوچھا گیا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہوں۔
پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ متعدد وکلا تنظیموں نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں شدت پسندی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کو چیلنج کیا ہے اور ان تنظیموں کا موقف ہے کہ فوجی عدالتیں ایک متوازی نظام عدل ہے اور یہ موجودہ عدلیہ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
موجودہ حکومت نے گذشتہ برس دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد پارلیمنمٹ میں اکیسویں آئینی ترمیم منظور کروا کر اس کے تحت ملک بھر میں فوجی عدالتیں قائم کر دی ہیں۔ اب تک ملک بھر میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جس میں اب تک ساٹھ سے زائد مقدمات بھیجے گئے ہیں۔
ان فوجی عدالتوں نے شدت پسندی کے مقدمات میں چھ افراد کو موت کی سزا سنائی ہے جسے سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران ان سزاوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کو پارلیمان میں کی جانے والی قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی جبکہ سپریم کورٹ کا موقف ہے کہ عدالت عظمیٰ کو آئین کی تشریح کا اختیار ضرور حاصل ہے جس سے وہ دستبردار نہیں ہوسکتی۔







