ہنگو میں کرفیو نافذ کرنے کے بعد ہٹا دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ مشکوک افراد کی موجودگی کی وجہ سے پیر کی شب سکیورٹی فورسز کی طرف سے مختصر مدت کے لیے کرفیو نفاذ کیا گیا تھا تاہم اب کرفیو ہٹا دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہنگو شہر سے تقریباً چھ کلومیٹر دور قبائلی علاقے کی سرحد کے قریب واقع بلیامینہ یونین کونسل میں پیر کی شام اچانک مسجدوں سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا اور لوگوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کرفیو 48 گھنٹوں کے لیے نافذ رہےگا تاہم بعد میں کرفیو کی مدت میں کمی کی گئی۔
ہنگو کے مقامی صحافی صالح دین اورکزئی نے بتایا کہ بلیامینہ اور دربند کے علاقوں میں ساری رات اور آج صبح 12 بجے تک کرفیو نافذ رہا اور اس دوران دونوں علاقوں میں گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل رہی جبکہ لوگ بھی مکانات کے اندر محصور رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار یہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں کہ کرفیو کا نفاذ کیوں کیا گیا تھا۔
دریں اثناء بلیامینہ پولیس سٹیشن کے انچارج دوست محمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں کچھ مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی جس کی وجہ سے کرفیو نفاذ کیا گیا تھا۔
دوست محمد خان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے بلیامینہ گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آپریشن کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ بلیامینہ گاؤں ہنگو شہر سے چند کلومیٹر دور اورکزئی ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہاں آس پاس کے علاقوں میں فوج کے دستے بھی تعینات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ امر بھی اہم ہے کہ ہنگو کی سرحدیں تین قبائلی علاقوں اورکزئی، شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی سے متصل ہیں۔ یہ علاقہ ماضی میں فرقہ وارانہ تشدد سے بھی بری طرح متاثر رہا ہے۔
تاہم اورکزئی ایجنسی میں عسکری تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب ضلع بھر میں سکیورٹی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر بتائی جاتی ہے۔







