پاک افغان شاہراہ کی تعمیر سے تجارتی راہیں ہموار

پشاور طورخم شاہراہ پر کئی مہینوں سے تعمیراتی کام جاری رہا جسے بالاآخر عام ٹریفک کےلیے بحال کر دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنپشاور طورخم شاہراہ پر کئی مہینوں سے تعمیراتی کام جاری رہا جسے بالاآخر عام ٹریفک کےلیے بحال کر دیا گیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، خیبر ایجنسی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے تعلق رکھنے والے صنعت کار احمد مصطفیٰ پلاسٹک کے پائپ بناتے ہیں۔ حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع ان کی فیکٹری کا تیارکردہ زیادہ تر مال افغانستان برآمد ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک افغانستان کے ساتھ تجارت خسارے کا شکار تھی لیکن طورخم پشاور شاہراہ کی تعمیر سے اب پاک افغان سرحد کے دونوں جانب معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے یہ سڑک اتنی خراب اور ناہموار ہوا کرتی تھی کہ معمولی سی حادثے کی صورت میں بھی چار سے پانچ دن تک شاہراہ بند رہتی تھی ۔ اس دوران دونوں جانب گاڑیوں کی آمد و رفت بند رہتی تھی جس سے گاڑیوں میں لدا ہوا افغانستان جانے والا تمام سامان بھی خراب ہوجاتا تھا۔

ان کے مطابق شاہراہ کی بندش سے اکثر اوقات تاجروں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑتا تھا تاہم سڑک کی تعمیر سے اب یہ مسائل تقریباً ختم ہوگئے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی بڑھ رہی ہے۔

صنعت کار کے بقول سرحد کے اِس طرف اب سڑکوں کی حالت بہتر ہورہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرحد کی دوسری طرف بھی سڑکوں پر کام ہوناچاہیے تاکہ تجارت میں کسی قسم کا روکاٹ نہ رہے۔

تقریباً 43 کلومیٹر پاک افغان شاہراہ پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے شروع ہوکر طورخم سرحد پر ختم ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتقریباً 43 کلومیٹر پاک افغان شاہراہ پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے شروع ہوکر طورخم سرحد پر ختم ہوتی ہے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ چند سالوں کے دوران دو طرفہ تجارت میں 50 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق تجارت میں کمی کے ویسے تو کئی وجوہات ہیں لیکن ان میں ایک وجہ سڑکوں کی ناگفتہ بے حالت بھی بتائی جاتی تھی۔

پشاور طورخم شاہراہ پر کئی مہینوں سے تعمیراتی کام جاری رہا جسے بالاآخر عام ٹریفک کےلیے بحال کر دیا گیا ہے۔ پاک افغان شاہراہ کے نام سے مشہور یہ سڑک تقریباً 43 کلومیٹر پر مشتمل ہے جو پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے شروع ہوکر طورخم سرحد پر ختم ہوتی ہے۔

یہ اہم سڑک قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اہم سڑک نہ صرف دونوں ممالک کی معشیت میں اہم کردار ادا کررہی ہے بلکہ اس کی تعمیر سے مقامی افراد بھی مستفید ہورہے ہیں۔

پشاور سے طورخم تک جگہ جگہ سڑک کے کنارے نئے بازار اور تجارتی مراکز تعمیر کئے جارہے ہیں جس سے مقامی لوگ بھی معاشی طورپر خوشحال ہو رہے ہیں۔

سردار ولی آفریدی خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں سڑک کے کنارے قائم ایک جنرل سٹور کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے یہاں اتنی زیادہ دوکانیں اور تجارتی مراکز نہیں تھے تاہم جب سے پاک افغان شاہراہ کی دوبارہ تعمیر کی گئی ہے اس کے بعد سے یہاں تحارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے انھیں پشاور تک جانے میں دو سے ڈھائی گھنٹے لگتے تھے لیکن شاہراہ کی تعمیر سے اب یہ فاصلہ 40 منٹوں میں طے ہوتا ہے جس سے ان کا کافی وقت بچ جاتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ چند سالوں کے دوران دو طرفہ تجارت میں 50 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ چند سالوں کے دوران دو طرفہ تجارت میں 50 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے

ان کے مطابق اس شاہراہ کی تعمیر سے نہ صرف افغانستان بلکہ تاجکستان اور دیگر وسطی ایشائی ریاستوں سے بھی تجارتی روابط بڑھنے کےلیے راہیں ہموار ہوگی۔

ادھر افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات میں پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتری دیکھی جارہی ہے۔ تاہم دونوں پڑوسی ممالک کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف حالیہ بیان بازی سے حالات ایک مرتبہ پھر تلخی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

پشاور کے صنعت کار اور خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن حاجی فضل الہٰی کا کہنا ہے کہ تجارت کے فروغ کےلیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک ہر حالت میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں ۔

’ دونوں پڑوسی ممالک ہر لحاظ سے مضبوط رشتوں میں باندھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں لہذا جب ایسے حالات ہوں تو پھر ہمیں کیونکر ایک دوسرے سے دشمنی کرنی چاہیے۔‘

حاجی فضل الہی کے مطابق ’ جب دونوں میں کوئی بھی پڑوسی تبدیل نہیں کرسکتا تو پھر ہمیں اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنے میں حرج کیا ہے۔‘