طورخم کے راستے نیٹو سپلائی بحال

نیٹو کے ٹرک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننیٹو کے ٹرکوں پر حملے کے بعد ٹرکوں کو روک دیا گیا تھا

پاکستان میں حکام کے مطابق پاک- افغان سرحد پر طورخم کے راستے نیٹو سپلائی ایک بار پھر بحال کردی گئی ہے۔

تیل کے سات کنٹینرز تورخم کے راستے افغانستان میں داخل ہونے والے ہیں۔

دو ہفتے پہلے جمرود میں نیٹو کنٹینرز پر حملے کی وجہ سے پاک افغان شاہراہ کے راستے سے نیٹو کی سپلائی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر بند کر دی گئی تھی۔

خیبر ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے اعلٰی اہلکار نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ سنیچر کو نیٹو کے سات کنٹینرز جمرود کی تختہ بیگ چیک پوسٹ پار کر کے پاک افغان سرحد طورخم کے راستے افغانستان جانے کے لیے پہنچ گئے جس سے طورخم کے راستے نیٹو سپلائی کی دوبارہ بحالی کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ کلئیرنس کے بعد یہ کنٹینرز تورخم کے راستے افغانستان روانہ کردیے جائيں گے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق طورخم کے راستے افغانستان میں مقیم نیٹو اور ایساف فورسز کے لیے دوبارہ سازوسامان کی رسد کی بحالی کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے تھے۔

دوسری طرف این ایل سی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سات کنٹینرز میں خوراکی مواد اور روزمرہ استعمال کی چیزیں بھی شا مل تھیں جن کو معمول کے مطابق سکریننگ کر کے تمام کنٹینرز کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ نیٹو کنٹینرز کے ساتھ ساتھ جمرود سے خاصہ فورس کی گاڑیاں بھی پاک افغان شاہراہ پر گشت کرتی رہی۔

یاد رہے کہ بارہ دن پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ٹیڈی بازارکے قریب موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے نیٹو کنٹینرز پر حملہ کیا تھا جس میں ایک ڈرائیور جاں بحق ہوگیا تھا جس کے بعد خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نے سیکورٹی خدشات کے باعث علاقہ تختہ بیگ ، پشاور موٹر وے اور رنگ روڈ پر نیٹو کنٹینرز کو روک لیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اکتیس جولائی کو پاکستان نے امریکی حکام کے ساتھ نیٹو سپلائی کی بحالی سے متعلق معاہدے پر دستخط کر کے اپنے آپ کو سپلائی بحالی کے لیے باقاعدہ پابند بنا لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مزید کسی تعطل اور تاخیر کے بغیر طورخم کے راستے نیٹو کی سپلائی کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔