’فوجی ٹرین کو حادثہ غیر معمولی تیز رفتاری کے باعث پیش آیا‘

 ریل گاڑی کی رفتار اس مقام پر 30 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے لیکن حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی کی رفتار اس سے دوگنی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن ریل گاڑی کی رفتار اس مقام پر 30 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے لیکن حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی کی رفتار اس سے دوگنی تھی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے شہر گوجرانوالہ کے قریب پاکستانی فوجی حکام اور ان کے اہل خانہ کو لے کر جانے والی خصوصی ریل گاڑی کو پیش آئے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جان لیوا حادثے کی وجہ گاڑی کی غیر معمولی تیز رفتار تھی۔

وزارت ریلوے کی جانب سے جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں اس حادثے کی ذمہ داری ٹرین کے مرحوم ڈرائیور اور پاکستان ریلوے کے چیف کنٹرولر سمیت ریلوے کے چھ اہلکاروں پر عائد کی گئی ہے۔

کمیٹی نے حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی ہے۔

گذشتہ ماہ پاکستان ریلوے کی خصوصی فوجی ٹرین کو پیش آنے والے اس حادثے میں چار فوجی افسروں سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیراعظم نواز شریف کے حکم پر وزارت ریلوے اور فوج کے حکام پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو اس حادثے کی تحقیقات کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

وزارت ریلوے کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ یہ حادثہ ریل گاڑی کی تیز رفتار کی وجہ سے پیش آیا۔

اس حادثے کی براہ راست ذمہ داری اسی حادثے میں ہلاک ہونے والے ڈرائیور ریاض احمد، نائب ڈرائیور محمد فیاض اور پوائنٹ مین شاہد محمود پر عائد کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس حادثے کی براہ راست ذمہ داری اسی حادثے میں ہلاک ہونے والے ڈرائیور ریاض احمد، نائب ڈرائیور محمد فیاض اور پوائنٹ مین شاہد محمود پر عائد کی ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ریل گاڑی کی رفتار اس مقام پر 30 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے لیکن حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی کی رفتار اس سے دوگنی تھی۔

’اس حد سے زیادہ رفتار کی وجہ سے موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی جھٹکے کھانے لگی اور پچھلی بوگیوں کے پہیے پٹری سے اتر گئے۔ ڈرائیور نے ایمرجنسی بریکس لگانے میں بھی تاخیر کی جس کی وجہ سے حادثے کی شدت میں اضافہ ہوا۔‘

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے اس حادثے کی براہ راست ذمہ داری اسی حادثے میں ہلاک ہونے والے ڈرائیور ریاض احمد، نائب ڈرائیور محمد فیاض اور پوائنٹ مین شاہد محمود پر عائد کی ہے۔

اس کے علاوہ بلواسطہ طور پر بھی بعض ریلوے حکام کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جن میں فیصل آباد کے سٹیشن سپرینٹنڈنٹ احسان الحق، لوکو فور مین محمد حنیف، چیف کنٹرولر پاکستان ریلوے زاہد سعید، ڈپٹی چیف ظفر صدیق، ڈپٹی چیف اللہ رکھا اور سیکشن افسر محمد اویس اختر شامل ہیں۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران عینی شاہدین، موقع پر موجود شہادتوں اور ریلوے کے ریکارڈ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔