ٹرین حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں

پاکستان کے شہر وزیرآباد کے قریب پل ٹوٹنے سے چھ بوگیوں پر مشتمل ٹرین کا انجن اور چار بوگیاں پانی میں جا گریں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر وزیرِ آباد کے قریب فوجیوں کو لے جانے والی خصوصی ٹرین کی چار بوگیاں نہر میں گرنے سے تین فوجی افسران سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک ہوگئے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر وزیرِ آباد کے قریب فوجیوں کو لے جانے والی خصوصی ٹرین کی چار بوگیاں نہر میں گرنے سے تین فوجی افسران سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک ہوگئے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر جامکے چٹھہ میں نہر چھنانواں پر پیش آیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر جامکے چٹھہ میں نہر چھنانواں پر پیش آیا۔
 حادثے میں ٹرین پر سفر کرنے والی فوجی یونٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ریسکیو 1122 کے مقامی اہلکار محمد ایاز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حادثے میں کمانڈنگ افسر کی اہلیہ اور بیٹی بھی ہلاک ہوئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشن حادثے میں ٹرین پر سفر کرنے والی فوجی یونٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ریسکیو 1122 کے مقامی اہلکار محمد ایاز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حادثے میں کمانڈنگ افسر کی اہلیہ اور بیٹی بھی ہلاک ہوئی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے نہر پر قائم ریلوے کا پل اس وقت ٹوٹ گیا جب پنوں عاقل سے کھاریاں جانے والی ٹرین اس پر سے گزر رہی تھی۔ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ پل ٹوٹنے سے چھ بوگیوں پر مشتمل ٹرین کا انجن اور چار بوگیاں پانی میں جا گریں۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کا کہنا ہے نہر پر قائم ریلوے کا پل اس وقت ٹوٹ گیا جب پنوں عاقل سے کھاریاں جانے والی ٹرین اس پر سے گزر رہی تھی۔ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ پل ٹوٹنے سے چھ بوگیوں پر مشتمل ٹرین کا انجن اور چار بوگیاں پانی میں جا گریں۔
حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں جن میں فوج کے غوطہ خور اور آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ٹرین کا انجن اور ایک بوگی ابھی تک پانی کے اندر موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنحادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں جن میں فوج کے غوطہ خور اور آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ٹرین کا انجن اور ایک بوگی ابھی تک پانی کے اندر موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
پاکستان ریلوے کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل رؤف خان کے مطابق ٹرین پر فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ بھی سوار تھے اور اس پر فوجی ساز و سامان بھی لدا ہوا تھا۔رؤف خان نے کہا کہ اس حادثے میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان ریلوے کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل رؤف خان کے مطابق ٹرین پر فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ بھی سوار تھے اور اس پر فوجی ساز و سامان بھی لدا ہوا تھا۔رؤف خان نے کہا کہ اس حادثے میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔