فوجیوں کی ٹرین کے حادثے میں ہلاکتیں 18، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر وزیرِ آباد کے قریب فوجیوں کو لے جانے والی خصوصی ٹرین کی چار بوگیاں نہر میں گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعے کو امدادی کارکنوں نے نہر سے مزید چار افراد کی لاشیں نکالی ہیں۔
ادھر آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ تاہم اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ ابھی بھی کتنے افراد لاپتہ ہیں۔
اس سے قبل جمعرات کو ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ گوجرانوالہ کینٹ میں ادا کی گئی جس میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر جامکے چٹھہ میں نہر چھنانواں پر پیش آیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا نہر پر قائم ریلوے کا پل اس وقت ٹوٹ گیا جب پنوں عاقل سے کھاریاں جانے والی ٹرین اس پر سے گزر رہی تھی۔
ریلوے کے حکام کا کہنا تھا کہ پل ٹوٹنے سے چھ بوگیوں پر مشتمل ٹرین کا انجن اور چار بوگیاں پانی میں جا گریں۔
حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کاروائیاں شروع کر دی گئیں جن میں فوج کے غوطہ خور اور آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریسکیو 1122 کے مقامی اہلکار محمد ایاز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حادثے میں کمانڈنگ افسر کی اہلیہ اور بیٹی بھی ہلاک ہوئی ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک میجر اور ایک کیپٹن بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
فوج کا کہنا ہے کہ اب تک آٹھ افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ چار کی تلاش جاری ہے جبکہ پانچ زخمیوں کو ہسپتال اور 80 افراد کو محفوظ مقام پر بھی منتقل کیا گیا ہے۔
پاکستان ریلوے کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل رؤف خان نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ٹرین کا انجن اور ایک بوگی ابھی تک پانی کے اندر موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ٹرین پر فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ بھی سوار تھے اور اس پر فوجی ساز و سامان بھی لدا ہوا تھا۔
رؤف خان نے کہا کہ اس حادثے میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے ایک گھنٹہ پہلے راولپنڈی سے کراچی جانے والی پاکستان ایکسپریس اس مقام سے گزری تھی۔
روف ِخان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی نہروں اور دریاؤں پر ریلوے ٹریک کا معائنہ کیا گیا تھا جس میں اس ٹریک کو بھی تسلی بخش قرار دیا گیا۔
اُدھر وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اس حادثے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئےکار لائیں۔







