وزیرستان: بےگھر قبائلیوں کا احتجاج کا اعلان

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے فوجی آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے قبائلیوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایک ہفتے کےاندر اندر تمام متاثرین کی فوری واپسی کے قابل عمل کا منصوبے کا اعلان نہ کیاگیا تو وہ اس کے خلاف اسلام آباد اور پشاور میں احتجاج کریں گے۔

شمالی وزیرستان کے اتمانزئی قبائل کے ایک نمائندہ جرگے نے جمعرات کو پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان سے ملاقات کی۔ جرگے کی سربراہی شمالی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی حاجی محمد نذیر کر رہے تھے جبکہ جرگہ تقریباً 70 قبائلی مشران اور عمائدین پر مشتمل تھا۔ جرگے میں وزیرستان کے نوجوانوں کے وفد نے بھی شرکت کی۔

جرگے میں شامل اتمانزئی قبیلے کے ایک قبائلی مشر ملک کلیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے نے گورنر کو متاثرین وزیرستان کے مسائل کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ جرگے نےگورنر سے پرزور مطالبہ کیا کہ شمالی وزیرستان سے بےگھر ہونے والے افراد کی فوری واپسی کے لیےاقدامات کیے جائیں تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں کو دوبارہ واپس جا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ گورنر سردار مہتاب احمد خان نے جرگے کے تمام مسائل بڑے غور سے سنے اور یہ یقین دہانی کرائی کہ تمام متاثرین کی باوقار طریقے سے جاری واپسی کے عمل میں تیزی لائی جائےگی۔

ملک کلیم اللہ کے مطابق جرگے نے حکومت کو چند دنوں کی مہلت دی ہے اور اگر اس دوران ان کے مطالبات پر کوئی کارروائی نہ کی گئی تو اگلے مرحلے میں پشاور اور اسلام آباد میں دھرنے دیے جائیں گے۔

دریں اثناگورنر ہاؤس پشاور سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جرگے سے خطاب میں گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے قبائلیوں کے بہتر مستقبل کےلیے تاریخی اقدامات کیے ہیں۔

گذشتہ سال جون میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال جون میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہوگئے تھے

انھوں نے کہا کہ وزیرستان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کےلیے کیڈٹ کالج رزمک کو واپس رزمک لایا جا رہا ہے جس کی تعمیر و بحالی کےلیے دس کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہوگئے تھے جو بدستور بنوں میں پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔

حکومت نے چند ماہ پہلے ان بے گھر متاثرین کی واپسی کا عمل بھی شروع کیا ہے اور اب تک دو ہزار سے زائد خاندان واپس اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں۔

تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان علاقوں کے بیشتر لوگوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے جہاں سرے سے آپریشن ہوا ہی نہیں تھا۔

ان کے مطابق واپسی کا منصوبہ بھی ایک سال کے عرصہ پر محیط ہے جو ان کے بقول ایک طویل منصوبہ ہے جبکہ متاثرین مزید کیمپوں یا کرائے کے گھروں کی مشکلات برداشت نہیں کر سکتے۔