گلگت بلتستان انتخابات میں مسلم لیگ ن کی’برتری‘

گذشتہ انتخابات میں گلگت بلتستان میں حکومت بنانے والی جماعت پیپلز پارٹی اس مرتبہ بری طرح ناکام ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنگذشتہ انتخابات میں گلگت بلتستان میں حکومت بنانے والی جماعت پیپلز پارٹی اس مرتبہ بری طرح ناکام ہوئی ہے

پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان میں دوسری قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک 24 میں سے 18 حلقوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن میں سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے 11 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

بقیہ چھ حلقوں میں سے بھی تین میں مسلم لیگ ن کو واضح برتری حاصل ہے۔

اس کے علاوہ مجلسِ وحدت المسلمین نے دو جبکہ پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف اور اسلامی تحریک نے ایک ایک سیٹ جیتی ہے۔ دو نشستیں آزاد امیدواروں کے حصے میں آئی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے گلگت، سکردو اور گانچھے سے تین، تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اسے دیامیر اور استور سے دو، دو اور ہنزہ سے ایک نشست ملی ہے۔

مجلسِ وحدت المسلمین کے امیدوار ہنزہ اور سکردو سے کامیاب ہوئے ہیں۔

گذشتہ انتخابات میں گلگت بلتستان میں حکومت بنانے والی جماعت پیپلز پارٹی اس مرتبہ بری طرح ناکام ہو گئی ہے اور ایک کے سوا اس کے تمام امیدوار ہار گئے ہیں جن میں سابق وزیرِ اعلیٰ مہدی شاہ بھی شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن نے گلگت، استور اور گانچھے میں کلین سویپ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنمسلم لیگ ن نے گلگت، استور اور گانچھے میں کلین سویپ کیا ہے

پیپلز پارٹی کو واحد سیٹ سکردو سے ملی ہے جبکہ تحریکِ انصاف کے امیدوار نے غذر اور اسلامی تحریک نے ہنزہ سے کامیابی حاصل کی ہے۔

کامیاب ہونے والے تین آزاد امیدواروں میں سے دو کا تعلق غذر اور ایک کا دیامیر سے ہے۔

سکردو کے ایک حلقے جی بی ایل اے 10 کا نتیجہ روک لیا گیا ہے اور دوبارہ گنتی کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد 33 ہے جس میں تین ٹیکنوکریٹس، جبکہ چھ خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ باقی رہ جانے والی 24 نشستوں پر پیر کو انتخابات ہوئے تھے۔

ان 24 نشستوں میں گلگت کے تین، سکردو کے چھ، دیامر کے چار، غذر، ہنزہ اور گانچھے کے تین تین، جبکہ استور کے دو انتخابی حلقے شامل تھے جہاں 268 امیدوار مدمقابل تھے اور ان میں سے تقریباً 40 فیصد آزاد امیدوار تھے۔

اِن انتخابات میں صرف دو خواتین امیدواروں نے گانچھے سے حصہ لیا تاہم دونوں ہار گئیں۔

گلگت بلتستان میں انتخابات کا انعقاد پر امن رہا۔ الیکشن کے لیے سات اضلاع میں 1151 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے، جن میں سے تقریباً نصف کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ خطے میں انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے جبکہ تمام اضلاع میں عام تعطیل بھی تھی۔