’ملالہ کے دو حملہ آوروں کو سزا ہوئی، آٹھ عدم ثبوت کی بنا پر بری‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ امن کا نوبیل انعام پانے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کے دس ملزمان میں سے صرف دو کو ہی سزا سنائی گئی تھی اور دیگر آٹھ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا تھا۔
ملالہ یوسفزئی پر سنہ 2012 میں طالبان نے سوات کے شہر مینگورہ میں حملہ کیا تھا اور پاکستانی حکام نےگذشتہ برس دس ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
<link type="page"><caption> ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے شدت پسند گرفتار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/09/140912_ispr_presser_malala_zarbe_azb_politics_rh" platform="highweb"/></link>
اس کے بعد رواں برس اپریل کے آخر میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ان دس افراد کو انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
تاہم تقریباً ڈیڑھ ماہ کے بعد اب پاکستانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سزا سے متعلق پہلے آنے والی اطلاعات غلط تھیں اور سزائے قید صرف دو ملزمان کو ہوئی، جبکہ بقیہ بری کر دیے گئے تھے۔
سوات کے ضلعی پولیس سربراہ سلیم مروت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق ملالہ یوسف زئی پر حملے میں دس افراد کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم کیس کی سماعت مکمل ہونے پر سزا دو افراد کو سنائی گئی جبکہ دیگر اٹھ افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے خصوصی کی جانب سے یہ سزا رواں برس 30 اپریل کو سنائی گئی تھی تاہم ذرائع ابلاغ کی جانب سے غلط رپورٹنگ کی گئی اور سزا یافتہ ملزمان میں دو کی بجائے دس کے نام دیے گئے تھے جو سراسر غلط تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کیس میں سرکاری وکیل سید نعیم ایڈووکیٹ نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مقدمے میں دو ملزمان کو سزا سنائی گئی جبکہ آٹھ ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کر دیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ سرکار کی طرف سے انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف دارالقضا میں اپیل بھی دائر کی گئی ہے جس میں آٹھ ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، تاہم اس اپیل پر ابھی تک عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔
ملالہ پر حملے کے صرف دو ملزمان کو سزا ہونے کا انکشاف پہلی مرتبہ جمعرات کو برطانوی اخبار ’ڈیلی دی مرر‘ کی رپورٹ میں کیا گیا جب سوات کے آر پی او نے اس کی تصدیق کی تھی۔
خیال رہے کہ ملالہ یوسفزئی کی عمر اُس وقت عمر 15 سال تھی جب وہ سوات کے شہر مینگورہ میں سکول سے وین میں گھر جاتے ہوئے ایک حملے میں انھیں سر پر گولی ماری گئی تھی۔
اس حملے میں ان کے ساتھ دو اور طالبات شازیہ اور کائنات زخمی ہوگئی تھیں۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی اور اس حملے کے مرکزی ملزم عطا اللہ، جن کا تعلق سوات کے علاقے سنگوٹہ سے تھا، افغانستان فرار ہوگئے تھے۔ جس کے بعد سنہ 2013 اور سنہ 2014 میں سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے حملے میں معاونت کرنے والے دس ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن کی شناخت خفیہ رکھی گئی تھی۔
ملالہ یوسفزئی کو بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پرگذشتہ برس نوبل انعام دیاگیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی انھیں تعلیم کے حصول کے لیے طالبان کے سامنے ڈٹ جانے پر کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔







