ملالہ اور ’سازشوں‘ میں گھرا پاکستان

سوشل میڈیا پر ایسی آراء سامنے آئیں جن میں ملالہ کو’سازشی نظریے‘ کے بقول کہا گیا کہ وہ امریکی، بھارتی یا یہودی انٹیلجینس ایجینسیوں کی سازش کا شکار ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا پر ایسی آراء سامنے آئیں جن میں ملالہ کو’سازشی نظریے‘ کے بقول کہا گیا کہ وہ امریکی، بھارتی یا یہودی انٹیلجینس ایجینسیوں کی سازش کا شکار ہیں۔
    • مصنف, ایمن خواجہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

سوشل میڈیا پرگذشتہ ہفتے سے ملالہ یوسفزئی کے امن کا نوبیل پرائز جیتنے کی خبر دنیا بھر اور پاکستان میں مثبت توجہ کا مرکز بنی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ملالہ کو ’فخر پاکستان‘ کہا اور کہا کہ پاکستانی بچوں کو ملالہ کی ’جدوجہد اور عزم‘ سے سیکھنا چاہیے۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے بھی ملالہ کو مبارک باد دیتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’دہشت گردوں کے علاوہ تمام پاکستانی لوگ اپنے بچوں کو سکولوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

یہاں تک کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان، جن کی سیاسی جماعت نے خیبر پختونخواہ میں ملالہ کی سوانح عمری پر پابندی عائد کی ہوئی ہے، نے بھی ملالہ کو ٹوئٹر پر مبارک باد دی۔

لیکن پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک تاریک گوشہ بھی ہے جہاں پر ملالہ کے نوبیل پرائم جیتنے پر بیحد خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ لوگوں نے شدید غصے اور تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔ ٹوئٹر اور فیس بک پر کئی ایسی آراء سامنے آ چکی ہیں جن میں ملالہ کو کسی ’سازش‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ امریکی، بھارتی یا یہودی خفیہ ایجینسیوں کی سازش کا شکار ہیں اور وہ دنیا میں پاکستان کا نام بدنام کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ ملالہ کو اس ایوارڈ کا حق دار نہیں سمجھتے ان کی ززیادہ تر تعداد پاکستان تحریکِ انصاف کی حامیوں کی ہے۔ مشہور پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی جو پی ٹی آئی کے حامی اور سیاسی کارکن ہیں، انھوں نے اپنے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس پر لکھا: ’انسانیت کی خدمت کرنے والے انسان ایدھی کی موجودگی کے باوجود نوبیل پیس پرائز ملالہ کو دیا جا رہا ہے…شرم کی بات ہے۔‘

لیکن جب پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن ذیشان شفقت سے پوچھا گیا کہ ان کی جماعت کی جانب سے ملالہ سے اتنی نفرت کا اظہار کیوں دکھائی دیتا ہے تو انھوں نے کہا کہ حمزہ پی ٹی آئی کے حامی ضرور ہیں لیکن وہ ہمارے سرکاری ترجمان نہیں ہیں اور یہ ان کی ذاتی رائے تھی۔

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سرکاری عہدیداروں اور اس کے چیئرمین کو ملالہ پرفخر ہے اور جو لوگ ملالہ پر تنقید کرتے ہیں وہ پارٹی کے سرکاری سوشل میڈیا کے اراکین نہیں بلکہ صرف پارٹی کے حامی ہیں۔ ذیشان نے مزید کہا کہ ملالہ کو نہ پسند کرنے والے پورے ملک میں موجود ہیں اور ہر سیاسی پارٹی میں پائے جاتے ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حامیوں کی موجودگی زیادہ نظر آتی ہے کیونکہ یہ پارٹی ملک کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے۔

مشہور پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نےاپنے ٹوٹر اور فیس بک اکاؤنٹس پر ایدھی کے بجائے ملالہ کو نوبیل انعام ملنے پر تنقید کی۔

،تصویر کا ذریعہtwitter

،تصویر کا کیپشنمشہور پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نےاپنے ٹوٹر اور فیس بک اکاؤنٹس پر ایدھی کے بجائے ملالہ کو نوبیل انعام ملنے پر تنقید کی۔

پاکستان میں تقریباً 12 لاکھ کے قریب ٹوئٹر صارفین ہیں۔ یہ لوگ ملک کی 18 کروڑ آبادی کی نمائندگی تو نہیں کرتے لیکن ایک چھوٹے پیمانے پر ملک میں معاشری رویوں یا ٹرینڈز کا اندازہ ضرور فراہم کرتے ہیں۔ اکثر ٹوئٹر کے ٹرینڈز دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ پی ٹی آئی کی جانب سے شروع کیے جاتے ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی آواز ہے؟

کالم نگار اور تجزیہ کار ضرار کھوڑو کہتے ہیں کہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگز کے ذریعے ٹرینڈز چلوانا ا تنا مشکل کام نہیں ہے، اور ہر دفعہ ضروری نہیں کہ یہ ٹرینڈز لوگوں کے جذبات کی عکاسی کریں۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی دنیا اور حقیقی دنیا میں صورت حال مختلف ہوتی ہے، اور آپ کو جو کچھ انٹرنیٹ پر دکھائی دیتا ہے ضروری نہیں کہ وہ لوگوں کی اصل زندگی یا سوچ کی عکاسی کر رہا ہو۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی ٹوئٹر پر اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن ان پارٹیوں کی مقبولیت زیادہ تر دیہی علاقوں مینں پائی جاتی ہے جہاں کی آبادی اتنی پڑھی لکھی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ذریعے ٹرینڈز پر اپنا اثر اور اپنا ایجینڈا ڈال رہی ہے تو یہ غلط تو ہے ہی، لیکن یہ بھی کہنا غلط نہیں ہے کہ ہر ملک میں کئی ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں جو ملک میں مقبول ترین خبروں کی عکاسی نہیں کرتے۔ اور پاکستان بھی سوشل میڈیا کے اس رجحان سے الگ نہیں ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی ملالہ کو ٹوٹر پر پر مبارک باد دی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی ملالہ کو ٹوٹر پر پر مبارک باد دی۔

ملالہ پر مختلف رد عمل کی بارے میں ضرار نے کہا: ’پاکستان میں ملالہ سے محبت کرنے والے اتنے ہی لوگ ہیں جتنے ان سے نفرت کرنے والے۔ اس کی وجہ یہ ہے کے ہم لوگ انتہائی الجھی ہوئی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں ۔ ہم ’سازشی نظریات‘ میں پلے ہیں اور ہمارے لیے ’سازشی نظریات‘ کو مان لینا زیادہ آسان ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ہم اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہیں کہ ہماری کوئی غلطی نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے خلاف ایک ’بڑی سازش‘ کی جاتی ہے۔ اور ملالہ کے کیس میں بھی کچھ لوگوں کی یہی سوچ ہے کہ مغربی ممالک نے ملالہ کو اپنی مخصوس رائے پھیلانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔‘

ملالہ کو نوبیل انعام ملنے پر تنقید کرنے والوں کے بارے میں ان کے والد ضیاء الدین نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا تھا کہ: ’ملالہ کے کام اور ملالہ کی دنیا بھر میں پزیرائی پر خوشی منانے کے لیے بہت بڑی ہمت چاہیے۔ پاکستان بھر میں لوگوں نے ملالہ کو نوبیل انعام ملنے پر خوشیاں منائی ہیں۔ لیکن جو اس پر خوش نہیں ہیں میں ان کے ناخوش ہونے پر خفا نہیں ہوں۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں وہ خوشیاں دے جو انہیں پسند ہوں۔‘