اور ملالہ جیت گئی

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عادل شاہ زیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام برمنگھم
ملالہ یوسفزئی اور ان کے خاندان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ کوئین الزبتھ ہسپتال برمنگھم سے علاج کے بعد فارغ ہوئی تھیں اور ڈاکٹروں نے انہیں کسی پرفضا مقام پر جانے کا مشورہ دیا تھا۔
ملالہ ابھی پوری طرح صحتیاب نہیں ہوئی تھیں اور اُن کے چہرے کا ایک حصہ مکمل طور پر سُن تھا۔
ملالہ سارا دن میرے سوالوں کے جواب ایسے حوصلے سے دیتی رہیں جیسے انہیں کچھ ہوا ہی نہیں اور ان کے ہر جواب کا اختتام اس بات پر ہوتا کہ انھوں نے پاکستان جا کر ایک کامیاب سیاستدان بننا ہے۔
گذشتہ سال جب انھیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تو پورا خاندان اس پر خوش تھا مگر انعام حاصل نہ کرنے پر مایوس نہیں ہوئے۔
جب پوچھا کہ مایوسی نہیں ہوئی تو جواب دیا کہ ابھی بہت وقت ہے ایک نہ ایک دن ضرور جیتوں گی۔
سینیچر کو نوبیل انعام حاصل کرنے کی خبر سنتے ہیں میرے ذہن میں کیمبرج کی ملاقات یاد آگئی اور میں دل ہی دل میں مسکرایا کہ آخر ملالہ جیت ہی گئی۔
برمنگھم لائبریری میں میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد ملالہ کو سننے کی منتظر تھی اور خوش قسمتی سے میری نشست ملالہ کے والد اور اُن کے خاندان کے ساتھ ہی تھی۔
ملالہ کی آمد کی اطلاع اچانک کیمروں کے فیلش کی آواز سے ملی اور اس سے قبل ہی ان کے والد اور والدہ کو مبارکباد دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب اُن کے والدہ سے اُن کے تاثرات پوچھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انھوں نے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا کہ آج ان کی بیٹی نے پورے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
قریب ہی بیٹھے ضیاءالدین یوسفزئی نے مسکرا کر کہا کہ: ’میرے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ میری بیٹی نے پاکستان کے لیے تاریخ رقم کی ہے۔‘
تقریب میں موجود برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ابن عباس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کو نوبیل پیس پرائز ملنا پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ تقریب میں پاکستانی صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان دنیا اور خطے میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام جیتنے والی پاکستان کی ملالہ یوسفزئی نے اپنی تقریر میں خواہش ظاہر کی کہ جب ان دونوں افراد کو ایوارڈ ملے تو بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اس پروگرام میں موجود ہوں۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف، ملالہ یوسفزئی کی درخواست پر غور کریں گے؟ پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نوازشریف قیام امن کے لیے کوشاں ہیں اور وہ یقینًا ملالہ کی درخواست پر مثبت غور کریں گے۔







